چودھواں سفر
Urdu book, p. 181
By Maulana Wahiduddin Khan
چودھواں سفر دہلی احمد آباد لائن پر دہلی سے پانچ کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک اسٹیشن ہے ”بیاور“ یہ ضلع اجمیر میں واقع ہے۔ ۲۶ اگست ۱۹۷۳ء کو مجھے دو دن کے لیے وہاں جانے کا اتفاق ہوا۔ راجستھان کے اس قدیم قصبہ میں تقریباً ۵ ہزار کی تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔ بیاور سے جودھ پور کی طرف چلئے تو ایک طرف اونچے نیچے پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ دوسری طرف آفاق گیر قدرتی مناظر کے ساتھ ریلوے لائن اور پختہ سڑک بل کھاتی ہوئی احمد آباد کی طرف چلی جاتی ہے۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ کے بعد یہ سڑک کافی چوڑی اور عمدہ بنا دی گئی ہے۔ اس علاقہ کی بیشتر زمین پتھریلی چٹانوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ ان چٹانوں کے درمیان زرخیز زمین کے چھوٹے چھوٹے قطعات ہیں۔ ان قطعات کے گرد تقریباً ایک سو میل تک چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد ہیں۔ پتھر کی اس دنیا کے درمیان جگہ جگہ ہرے بھرے کھیتوں اور درختوں کا سلسلہ بڑا حسین معلوم ہوتا ہے۔ یہ سارا علاقہ تقریباً صد فی صد مسلم علاقہ ہے۔ صرف چند بازار ہیں جہاں دوسری قوموں کی آبادیاں ہیں جو تجارت کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان مسلمانوں کو دیکھئے تو مشکل ہی سے ان کے درمیان کوئی مسلم نشان دکھائی دے گا۔ ان کی معاشرت، ان کے نام، ان کی رسیں، ان کے لباس کسی میں بھی کوئی اسلامی انفرادیت نظر نہیں آتی۔ ان کی بستیوں میں مشکل سے چند بستیاں ہوں گی جہاں مسجد کے منارے دکھائی دیتے ہوں۔ ان کی اسلامیت اس کا نام ہے کہ وہ اپنے کو ”مسلمان“ سمجھتے ہیں۔ لڑکوں کے ختنے کراتے ہیں، ذبیحہ کھاتے ہیں اور نکاح کسی قاضی سے پڑھواتے ہیں (اگرچہ بعض ایسے بھی ہیں جو پھیرے کروالیتے ہیں) تقسیم کے بعد اس علاقہ میں جمعیۃ علمائے ہند نے کوئی ڈیڑھ درجن مکاتب قائم کئے تھے۔ جن میں بیشتر اب ختم ہو چکے ہیں۔ تبلیغ کے لوگ کبھی کبھی آتے ہیں جن کے ذریعہ اس علاقہ میں دین کی آواز پہنچتی رہتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader