Urdu book · میوات کا سفر

چودھواں سفر

Urdu book, p. 182

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ لوگ اپنے جد اعلیٰ (میرا) کے نام پر میراتی کہلاتے ہیں۔ پوری قوم جاہل ہے، زراعت کے سوا کوئی اور معاشی کام نہیں جانتی۔ کچھ لوگ مویشی بھی پال لیتے ہیں۔ باقی زندگی کے تمام سامان بنیوں کے یہاں سے خریدتے ہیں۔ 90 فی صد لوگ بنیوں کے مقروض ہیں اور ان کی کمائی کا بڑا حصہ، یا خریداری میں، یاسودی قرض میں بنیوں کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ ۴ اگست کی شام کو جب میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ میرات کے ایک گاؤں لال پورہ پہنچا تو ہمارے میزبان کا بلند چٹان پر بنا ہوا مکان بالکل خالی تھا۔ معلوم ہوا کہ چھوٹے بڑے سب کھیتوں اور جنگلوں میں کام پر گئے ہوئے ہیں۔ اسی طرح ساری قوم رات دن محنت و مشقت میں مصروف رہتی ہے۔ مگر ان کی زندگی ایک اندوہناک داستان ہے۔ پہاڑوں اور سرسبز قطعات کے درمیان بسی ہوئی قوم دینی اعتبار سے جہالت میں مبتلا ہے اور دنیا وی اعتبار سے استحصال کا شکار ہے۔ لال پورہ عین سڑک کے کنارے واقع ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ بجلی گزر رہی ہے۔ اس بستی میں ’’ احمد جی ‘‘ اس اعتبار سے نمایاں ہیں کہ وہ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور دینی مزاج بھی ہے۔ تبلیغی جماعتیں جو یہاں آتی ہیں وہ زیادہ تر امام الدین میواتی (بیادر) اور احمد جی (لال پورہ) کے تعاون سے کام کرتی ہیں۔ احمد جی اپنی سڑک کے کنارے کی معقول زمین مسجد اور مدرسہ کے لئے وقف کرنے کو تیار ہیں۔ اگر ایک شخص اپنے کو اس علاقہ کی خدمت کے لئے وقف کرے، یہاں سڑک کے کنارے کی موجودہ زمین پر مسجد اور مدرسہ کی بنیاد رکھے تو دس پانچ سال میں بہت کچھ کام ہو سکتا ہے۔ ہم لوگ ایک گاؤں سے گزر رہے تھے۔ گاؤں کے کنارے کچھ بچے ایک چٹان کے اوپر کھیل رہے تھے۔ ’’ نماز پڑھو بالا‘‘ (نماز پڑھنے والے لوگ ہیں یہ) ایک لڑکے نے کہا۔ ہماری داڑھی اور ہمارے لباس سے غالباً اس نے یہ خیال کیا کہ یہ مولوی لوگ ہیں۔ نماز پڑھتے ہوں گے۔ یہاں نماز وغیرہ اجنبی چیزیں ہیں۔ وہ اگرچہ اپنے کو مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان ہونے پر فخر بھی محسوس کرتے ہیں، مگر ان کے سروں پر چوٹیاں نظر آئیں گی، ان کے لباس میں کہیں سے کوئی ’’اسلامیت‘‘ دکھائی نہیں دیتی جنکی کہ جگہ جگہ بستیوں میں ان کے اپنے قومی بت بنے ہوئے ہیں، جن کی وہ پوجا کرتے ہیں۔ میں نے خود اس سفر میں ایسے کئی بت دیکھے۔ اس علاقہ میں سڑک اور ریلوے لائن ہے۔ بجلی اور ٹیلی فون کے تار سلس گزر رہے ہیں۔ مگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page