Urdu book · میوات کا سفر

چودھواں سفر

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

جہالت کی وجہ سے پوری آبادی نہایت پس ماندہ حالت میں پڑی ہوئی ہے۔ ان کے کنوؤں پر جو رہٹ پانی کھنچنے کے لئے ہوتی ہے وہ نہایت عجیب و غریب چیز ہے۔ تمام تر لکڑی کی بنی ہوئی ہوتی ہے۔ لوٹے مٹی کے ہوتے ہیں جو اس سے باندھ دئے جاتے ہیں اور بیل کے چلنے کے ساتھ چکر کے اوپر گھومتے رہتے ہیں۔ سینکڑوں برس پرانا یہ رہٹ کا طریقہ اس وقت نہایت عجیب معلوم ہوتا ہے جب آدمی دیکھتا ہے کہ یہاں لکڑی کی رہٹ کا یہ عجیب و غریب ڈھانچہ لگا ہوا ہے دہیں اس کے عین سر پر بجلی کے تار گزر رہے ہیں۔ وہ ابھی تک ایسا نہ کر سکے کہ بجلی حاصل کر کے اپنے کھیتوں میں پمپ لگاتے۔ میرات کا یہ علاقہ زیادہ تر اجمیر اور جودھ پور کے اضلاع میں پڑتا ہے۔ اونچی نیچی پتھریلی چٹانوں کے درمیان ہرے بھرے قطعات اور ان کے گرد چھوٹے چھوٹے مکانات کی اپنی ایک دنیا ہے جو تقریبا سو میل کے رقبہ میں پھیلی ہوئی ہے۔ خوش قسمتی سے اس پہاڑی علاقہ میں ریلوے لائن، سڑک اور بجلی بھی موجود ہے۔ اس طرح یہ علاقہ کسی تعمیری پروگرام کو چلانے کے لئے نہایت موزوں ہے۔ کہتے ہیں کہ ایک میو دہی آیا۔ قضائے حاجت کا تقاضا ہوا تو اس کو بیت الخلا کا راستہ بتایا گیا، مگر وہ جھانک کر باہر آگیا۔ کھیتوں اور جنگلوں میں رفع حاجت کرنے والے ایک میو کے لئے ناقابل برداشت تھا کہ وہ بند بیت الخلا میں اپنے کو مقید کر کے بیٹھے۔ میو کو اپنی ضرورت کے تحت تین دن تک دہلی میں رہنا پڑا۔ مگر وہ آخر تک یوں ہی پڑا رہا۔ تیسرے دن جب فطری تقاضے کو مسلسل روکنے کی وجہ سے اس کا برا حال ہو چکا تھا۔ اس کے سامنے سڑک سے ایک جنازہ گزرا کسی نے کہا، فلاں شخص کا جنازہ ہے۔ کچھ لوگوں نے اس سوال پر گفتگو شروع کر دی کہ وہ کون سا مرض تھا جو اس کی موت کا سبب بنا۔ میو کے لئے موت کا سبب ایک معلوم بات تھی۔ وہ غضب ناک ہو کر بولا : ”اجی، ہنگا یو مرگیو ہونگو“ (اجی ٹٹی سے مرا ہوگا)، میو اس وقت جس اذیت میں مبتلا تھا، اس کے لئے ناقابل تصور تھا کہ کسی کے لئے موت کا سبب اس کے سوا بھی کچھ ہو سکتا ہے۔ یہ صرف جاہل میو کی کہانی نہیں، بلکہ بیشتر انسانوں کی کہانی ہے۔ ہر شخص کا یہ حال ہے کہ اس نے اپنے ذوق کے مطابق کچھ مخصوص چیزوں کو اپنے اوپر غالب کر لیا ہے وہ اسی رنگ میں ساری چیزوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page