چودھواں سفر
Urdu book, p. 184
By Maulana Wahiduddin Khan
کو دیکھتا ہے اور ہر چیز کی توجیہہ اسی کی روشنی میں کرتا ہے۔ اس کے لئے ناقابل تصور ہے کہ واقعات کا سبب اس کے سوا بھی کوئی ہو سکتا ہے جو اس کے اپنے دماغ پر طاری ہے۔ خواہ اس کا نقطہ نظر حقیقت واقعہ سے اتنا ہی دور ہو جتنا جاہل میو کا خیال۔ دہلی سے الور جانے والی سڑک پر ۵۰ میل کے فاصلہ پر فیروز پور جھیر کا نام کا تاریخی قصبہ ہے۔ اس سے دو میل آگے ایک گاؤں ہے" بلونڈائڈ" اگر آپ بلونڈ آجائیں تو گاؤں کے باہر چھپر کا ایک چھوٹا سا مکان ملے گا، جس کے اوپر بجلی کا بلب رات کے وقت بھی چھپر کو" روشنی کا مینار" بنائے ہوئے ہوتا ہے۔ یہ اشرف خاں صاحب کی قیام گاہ ہے ان کے پاس اتنے کھیت نہیں کہ وہ خود ٹیوب ویل لگائیں انھوں نے سات بھائیوں کے اشتراک سے پانچ ہارس پاور کا ایک ٹیوب ویل لگایا ہے۔ ”میری ایک بسوہ کھیتی مجھے سال بھر کھانے کا غلہ دے دیتی ہے“ وہ آپ کو بتائیں گے چھپر سے متصل ان کی دو ایکڑ زمین ہے۔ اس کے ایک بسوہ رقبہ میں وہ بینگن اور دوسری سبزی ہوتے ہیں یہ سبزی بستی کے لوگ خریدتے ہیں۔ اور یہاں کے رواج کے مطابق غلہ کی شکل میں اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ یہ غلہ اتنا کافی ہوتا ہے کہ ہمارے گھر کی سال بھر کی ضروریات اس سے پوری ہو جاتی ہے۔ زمین میں پیدا وار کے بے پناہ امکانات ہیں۔ ایک بسوہ زمین میں سال بھر کی روزی کا امکان چھپا کر قدرت یہ سبق دے رہی ہے کہ اگر حالات تمہارے لئے زندگی کا دائرہ سمیٹ دیں حتی کہ وہ سمٹتے سمٹتے ایک" بسوہ " زمین تک پہنچ جائے تو اس وقت بھی مایوس نہ ہو۔ اگر تم نے محنت کی شرائط کو پورا کیا تو ایک بسوہ زمین میں ہم تمہارے لئے اتنا رزق اگائیں گے جو تمہاری ضروریات کے لئے کافی ہو۔ ہر یانہ میں ایک نہر ہے جوراجستھان کی سرحد سے پنجاب کی سرحد تک چلی جاتی ہے۔ یہ نہر لوپر ی کی پوری پختہ ہے۔ اس کی گہرائی بالکل انگریزی حرف (۷) کی ہے جو دونوں طرف پختہ ڈھال دے کر بنائی گئی ہے۔ پکی نہروں میں انسان اور مویشی آسانی داخل ہو جاتے ہیں اور اس میں نہاتے دھوتے ہیں۔ مگر اس پکی نہر میں داخل ہونا آسان نہیں۔ کوئی جانور اس میں داخل ہو تو اندر قدم رکھتے ہی وہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader