Urdu book · میوات کا سفر

چودھواں سفر

Urdu book, p. 185

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح پھیلتا ہے کہ پھر کہیں اس کو پاؤں ٹکانے کی جگہ نہیں ملتی ۔ وہ فورا اُس کی تہ میں پہنچ جاتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اگر وہ دوبارہ چڑھ کر باہر آنا چاہے تو نہر کی سیدھی ڈھال اس کو قدم جمانے کی کوئی جگہ نہیں دیتی اور وہ چڑھ نہیں پاتا۔ اسی بنا پر اس علاقہ کے عوام اس کو خونی نہر کہتے ہیں۔ یہ نہر "خونی" اس لئے ہے کہ وہ نہروں کے روایتی تصور کے مطابق نہیں۔ اگر چہ نہر ہونے کے اعتبار سے وہ انتہائی مکمل نہر ہے، کیونکہ وہ پانی کو زمین میں جذب ہونے سے بچاتی ہے اور سارے ذخیرہ آب کو منزل تک لے جاتی ہے۔ مگر یہ قیمتی نہر عوام کے لئے ایک "خونی" نہر ہے، کیونکہ ان کے روایتی تصور کے خانہ میں وہ پوری نہیں بیٹھتی۔ عوام ہر چیز کو اپنے روایتی مزاج کے خانہ میں دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ کسی چیز کی قدر و قیمت ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتی جب تک وہ ان کے روایتی مزاج کے مطابق نہ ہو۔ اسی لئے بعض مرتبہ قوموں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ایک مخصوص نظام میں وہ غالب حیثیت کی مالک ہوتی ہیں۔ مگر جب نظام بدلتا ہے اور نئی اقدار رائج ہوتی ہیں، تو وہ نئے حالات سے عدم مطابقت کی وجہ سے محروم ہو کر رہ جاتی ہیں۔ وہ نئی نہر کو " خونی" سمجھنے لگتی ہیں۔ خواہ نہر ہونے کے اعتبار سے وہ پہلے سے بھی زیادہ مواقع اپنے اندر کیوں نہ رکھتی ہو ۔ ضلع گوڑگاؤں میں ایک قصبہ ہے "پلونا ہانہ " ۔ اگر آپ اس کے اندر سے گزریں تو دیواروں پر جگہ جگہ آپ کو یہ اشتہار لکھا ہوا ملے گا ۔ ” قرآن مجید اور اسلامی کتا بیں گیتا بک ڈپو سے خریدیں“ اس علاقہ کے مساہن تجارت میں اتنا پیچھے ہیں کہ یہاں قرآن مجید اور اسلامی کتابوں کا بیچنے والا بھی ایک " گیتا بک ڈپو " ہے ۔ یہ صرف اس علاقہ کی بات نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ پورے ملک کے مسلمان بلکہ ساری اسلامی دنیا دورِ جدید کے تجارتی مواقع میں اتنا ہی پیچھے ہے جتنا " پلونا ہانہ " کے علاقہ کے جاہل مسلمان ۔ حتی کہ عرب ممالک میں تو گوشت اور سبزی اور دودھ بھی باہر کے ملکوں سے ڈبے میں بند ہو کر آتا ہے ۔ غیر منقسم ہندوستان میں " قرآن مجید اور اسلامی کتابوں " کا سب سے بڑا ناشر نول کشور تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page