Urdu book · میوات کا سفر

چودھواں سفر

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

اور جن لوگوں کو حالات کا علم ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ صورت حال کسی نہ کسی شکل میں آج بھی باقی ہے۔ مسلمانوں میں نام نہاد ایڈیٹروں، شاعروں اور مصنفوں کی تعداد ہر قوم سے زیادہ ہوگی۔ مگر اس کے بعد پریس، کاغذ روشنائی اور اس سلسلہ کی ساری چیزوں کا کار و بار عملاً غیر مسلموں کے قبضہ میں ہے۔ سیاسی خطابت کا جھنڈا اٹھا مسلمانوں نے، کم از کم اپنی خوش خیالی کے مطابق ایورسٹ کی چوٹی پر گاڑ دیا مگر اس فرضی ”ایورسٹ“ کے نیچے کی ساری دنیا کو دوسروں کے لئے چھوڑ دیا۔ تیسرے درجہ کے ایڈیٹروں اور شاعروں اور مصنفوں کی فوج کی فوج یہاں موجود ہے۔ مگر وہ تجارتی مقامات جہاں اس فوج کی تخلیقات نشر و اشاعت کا روپ حاصل کرتی ہیں، وہ سب دوسروں کے حصہ میں ہیں۔ یہ صورت حال اس درجہ افسوسناک ہے کہ کسی زبان نے ابھی تک وہ الفاظ وضع نہیں کئے جن میں اس کو بیان کیا جائے ۔ ”مجھے اپنی زندگی کے دو واقعات یاد آتے ہیں“ ایک میواتی عالم نے کہا ”۵۴-۱۹۵۲ء میں جب کہ میں مدرسہ سبحانیہ دہلی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا میرے ساتھ یوپی کے ایک طالب علم ، عبد القيوم صاحب تھے ۔ وہ اپنے روپے میرے پاس امانتاً رکھتے تھے جن کو میں ان کی اجازت سے خود اپنی ضرورت کے لئے بھی استعمال کرتا تھا۔ ان سے کسی بات پر میری لڑائی ہوگئی طالب علم کے دوستوں نے ان کو اکسایا کہ ”عبد الرحیم نے تمہارے ساتھ زیادتی کی ہے ، تم ان سے اپنا روپیہ مانگ لو“ مگر طالب علم نے جواب دیا ” ایسا نہیں ہوسکتا لڑائی الگ چیز ہے اور روپیہ الگ چیز ۔ میں لڑائی کی وجہ سے ان سے اپنے روپیہ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔“ ۲- ۱۹۵۹ء میں گلپاڑہ ( ضلع بھرت پور) کے مدرسہ میں تعلیمی خدمت انجام دے رہا تھا ۔ وہاں کے ایک میو حاجی دراب خاں سے میری اکثر لڑائی رہتی تھی۔ اسی دوران میں ایک بار مدرسہ کے لئے چندہ کی مہم چلی ۔ کچھ لوگ گاؤں میں گھومے ۔ کسی نے ۲۰ سیر اناج لکھوایا، کسی نے ۳۰ سیر ۔ سب سے زیادہ جس نے لکھوایا وہ ایک من غلہ تھا۔ لوگ حاجی دراب کے یہاں پہنچے، میں بھی وفد میں موجود تھا۔ انھوں نے پوچھا کہ لوگوں نے کتنا کتنا لکھوایا ہے ۔ ہر ایک کی مقدار بتائی گئی ، تو وہ بولے ۔ ” اچھا میری طرف سے سوا من لکھ لو“ اس کے بعد کہا ” اگرچہ میری اس مولوی سے لڑائی ہے۔ مگر مدرسہ سے میری کوئی لڑائی نہیں۔ مولوی سے لڑائی کے باوجود میں مدرسہ کی مدد کروں گا“ ( روایت! مولانا عبد الرحیم بٹڈیوی) یہ واقعات آن کی مثال ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کے دو درجے ہیں۔ ایک ایمان، دوسرے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page