Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

پندرہواں سفر ۱۹۴۷ء سے پہلے الور کی آبادی میں نصف سے زیادہ مسلمان تھے۔ آزاد پیشوں میں اور فوج اور انتظامیہ میں مسلمانوں کا غلبہ تھا۔ مگر تقسیم کے طوفان نے انتہائی بے دردی کے ساتھ سب کچھ برباد کر دیا۔ یہاں ایک بزرگ مولانا رکن الدین صاحب تھے۔ ۱۹۳۵ء میں ان کا انتقال ہوا تو ان کے معتقدین نے شہر کے باہر ایک کھیت میں ان کا مزار بنایا اور وہیں ایک مسجد اور مدرسہ بھی تعمیر کیا۔ مگر ۱۹۴۷ء میں دیگر تمام اسلامی آثار کے ساتھ یہ ادارہ بھی مسمار کر دیا گیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء آگے بڑھی۔ دہلی میں اور پاکستان کی سرحد سے ملی ہوئی ریاستوں میں مسلمانوں کی جو بربادی ہوئی تھی، وہاں مسلمانوں کے دوبارہ جمانے میں جمعیۃ علماء کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسی سلسلہ میں الور، بھرت پور میں امدادی کام کا نظام بھی بنا۔ اس کام کا مرکز الور تھا۔ مرحوم مولانا محمد ابراہیم صاحب (۱۹۱۴- ۱۹۰۷ء) اور مولانا مفتی جلال الدین صاحب قاسمی (پیدائش ۱۹۳۸ء) اس کام کے ذمہ دار بنائے گئے۔ الور سے مسلمانوں کے تخلیہ اور اس کی ڈیڑھ سو مساجد کی بربادی کے بعد مذکورہ بالا مسجد کے کھنڈرات وہ واحد جگہ تھی جہاں تعمیر نو کا یہ قافلہ اپنا کیمپ قائم کر سکتا تھا، چنانچہ اس مسجد کے کھنڈرات پر چھپر ڈال کر کام شروع کر دیا گیا۔ اس کام پر اب ۲۰ سال ہو چکے ہیں۔ اب یہاں قدیم بنیادوں پر دوبارہ ایک مسجد بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ اگرچہ ابھی اس میں بہت کچھ کام باقی ہے۔ اسی کے ساتھ ایک بات عمدہ مدرسہ بھی قائم ہو گیا ہے جس کی بڑھتی ہوئی آبادی اور ابھرتی ہوئی تعمیرات زبان حال سے کہہ رہی ہیں کہ اسلام وہ دین ہے جسے کو مالک کائنات نے ابدیت کی نسبت دے دی ہے۔ وہ دب دب کر دوبارہ ابھرتا ہے اس کو مٹایا نہیں جاسکتا۔ ۲۴ جنوری ۱۹۷۴ء کو میں اس علاقے میں آیا۔ اس سلسلے میں ضلع کے مندرجہ ذیل مقامات پر جانے کا اتفاق ہوا۔ الور خان پور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page