پندرہواں سفر
Urdu book, p. 189
By Maulana Wahiduddin Khan
کشن گڑھ کوٹ قاسم راج گڑھ آندھ واڑی مناکا دھولی دوب شیر پور نوگاؤں رس گهن اس علاقے میں نبوت محمدی کے دو زندہ معجزے ہیں۔ ایک حاجی مل خاں (٥٠ سال) کی والدہ۔ یہ بوڑھی خاتون (اماں جی) جو اپنی ظاہری ہیئت کے اعتبار سے بالکل نا قابل التفات معلوم ہوتی ہیں ۔ جب میں نے ان کی باتیں سنیں اور ان کے حالات معلوم کئے تو میرے دل نے کہا کہ بلا شبہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو اولیاء اللہ کہا گیا ہے۔ اپنے لائق فرزند کے اندر انھوں نے حیرت انگیز طور پر خدمت دین کی ایسی روح بھری ہے کہ وہ اس علاقے میں مسلمانوں کی دوبارہ اصلاح و تعمیر کے کام کا دست و بازو بن گئے ہیں۔ دوسرا زندہ معجزہ چودھری نثار احمد خاں (پیدائش ١٩٠٩ ) ہیں ۔ الور سے ٣٥ میل کے فاصلہ پر واقع ایک قصبہ "کوٹ قاسم" میں وہ تنہا اپنے خاندان کے ساتھ مقیم ہیں۔ اس قصبہ میں پہلے مسلمان نصف سے زیادہ آباد تھے ۔ مذکورہ چودھری صاحب کے ایک خاندان کے سوا سارے خاندان ۱۹۴۷ کے انقلاب میں اس قصبہ کو چھوڑ کر چلے گئے، مگر چودھری صاحب نے انتہائی جرأت کے ساتھ یہاں کی پانچ مساجد کو سارے حوادث کا مقابلہ کرتے ہوئے محفوظ رکھا ہے۔ قبرستان تک جو کہ سڑک کی زد میں آرہی تھی اس کے لئے ایمانی جرأت کے ساتھ ڈٹ گئے ۔ اور اس کو بچانے میں کامیاب رہے۔ قصبہ کی جامع مسجد عین چوک پر ہے۔ پاس کی زمینیں اس مسجد پر وقف تھیں ۔ تمام زمینوں کو انھوں نے محفوظ کر لیا اور دکانیں بناکر مسجد کے لیے آمدنی کی شکل پیدا کر دی۔ کسی کو یہ دیکھنا ہو کہ وہ لوگ کیسے ہوتے ہیں جن کے متعلق کہا گیا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader