پہلا سفر
Urdu book, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
اور ان کے بل پر دوسروں کی کوٹھیاں بن گئیں ۔ ۱۹۴۷ء میں جب میویں پر آفت آئی تو ان کے اجڑے ہوئے باغ کو پھر سے لگایا ۔“ مولوی ابراہیم کانگریس میں تھے مگر کبھی دب کر نہیں رہے ، ماسٹر امر سنگھ نے سلسلہ گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ” ۱۹۵۲ میں جب وہ کانگریس کے ٹکٹ پر ایم ۔ ایل ۔ اے ہو کر راجستھان اسمبلی میں پہنچے تو میں بھی اس وقت اسمبلی میں موجود تھا۔ پالی وال چیف منسٹر تھے۔ اپوزیشن لیڈر گوپال یادو نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ـــ ” کانگریس گورنمنٹ اور رنگ زیب سے بھی زیادہ ظالم ہے “ مولوی ابراہیم نے فوراً کھڑے ہو کر کہا : ” کہاں شہنشاہ عالم گیر اور کہاں یہ ظالم سرکار ۔ اس نے تو مرنے وقت وصیت کی کہ میری تجہیز و تکفین اس ۹۰ روپے سے ہو جو میں نے ٹوپی بنا کر کمائے ہیں سرکاری خزانہ سے کچھ نہ لیا جائے اور اس سرکار کا حال تو یہ ہے کہ وہ ہڈی پسلی سب چبا جائے ۔“ ماسٹر امر سنگھ نے کہا کہ مولوی صاحب کی خدمات کی وجہ سے ” راجپوت ان کو سنٹ پرسنٹ چاہتے ہیں ۔“ الورو وہ مقام ہے جو اس بات کا نمونہ ہے کہ یہاں مسلمانوں کے نام و نشان تک کو مٹا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ مگر اسی الور میں آپ کو ایسے غیر مسلم بھی ملیں گے جو مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں اور مسلم تہذیب کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتے ہیں ۔ ٹھاکر امر سنگھ (جاو لی بھون - الور) نے ۳ اپریل ۱۹۶۹ کی ملاقات میں مجھ سے کہا ” آپ تفصیلی موقع نکالیں اور پورے میوات کا دورہ کریں ۔ ہم بھی آپ کے ساتھ چلیں گے۔ سرپنچوں سے کہہ کر گاؤں گاؤں میں آپ کا اخبار الجمعیتہ جاری کرائیں گے ۔ ہندوؤں کو بھی خریدار بنائیں گے ۔ اخبار کو چلانے کے لیے سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے آپ کے لیے مالی امداد بھی کرائیں گے ۔“ ٹھاکر امر سنگھ خود بھی اردو فارسی جانتے ہیں ۔ میں نے ان سے ایک کاغذ پر اپنا پتہ لکھنے کے لیے کہا۔ میں نے انگریزی میں لکھنے کی فرمائش کی تھی ۔ مگر انہوں نے بالقصد اردو رسم الخط میں اپنا پتہ لکھ کر مجھے دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader