پندرہواں سفر
Urdu book, p. 191
By Maulana Wahiduddin Khan
اس قسم کے گاؤں اس علاقے میں بہت ہیں۔ مگر یہاں کوئی اصلاحی کام نہیں ہو رہا ہے۔ تقیسم سے پہلے اور میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ یہاں کی پولیس، انتظامیہ، صنعت، حرفت، زراعت ہر چیز پر مسلمان چھائے ہوئے تھے۔ تقسیم کے طوفان نے اگر چہ اس ماضی کو ملیا میٹ کر دیا، تا ہم اس کے بچے کھچے آثار اب بھی جگہ جگہ باقی ہیں۔ اکثر جگہ بڑی بڑی درگاہیں اور مسجدیں موجود ہیں جن کو اس علاقے کی تعمیر نو کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خان پور میں ایک بڑی مستحکم اور چاروں طرف سے محصور درگاہ ہے جس میں کچھ لوگ لڑکیوں کا مدرسہ قائم کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ کوٹ نٹ ہم میں بڑی بڑی مسجدیں ہیں۔ اور مقامی طور پر اتنے ذرائع ہیں کہ ایک اچھا مدرسہ قائم کر کے چلایا جا سکتا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ ان درگاہوں کو دورِ جدید کی درگاہ بنا دیا جائے۔ یہاں اسلام کی تعلیم و تربیت کے ادارے قائم کئے جائیں اور خاموشی کے ساتھ لوگوں کی اصلاح کی جائے۔ متعدد جگہوں پر مدرسہ کے قیام کے امکانات ہیں۔ اگر ایسے لوگ ملیں جو صلم دین کے ساتھ خدمت دین کا بھی جذبہ رکھتے ہوں تو یہاں ان کے لئے کام کا بہترین میدان ہے، یہاں وہ مدرسہ کے مدرس کی حیثیت سے قیام کریں، لڑائی جھگڑے سے دور ر ہیں۔ اسلامی اخلاق کو اپنا طریقہ بنائیں اور بے غرضی کے ساتھ خاموش کام کریں تو نہ صرف انھیں احیائے دین کا ثواب ملے گا بلکہ یہاں انھیں ہر قسم کے معاشی مواقع بھی ملیں گے اور ب فراغت زندگی گزارتے ہوئے وہ دینی خدمت کر سکیں گے۔ الو میں ایک درگاہ تھی مشہور ہے کہ اس درگاہ کا اتنا رعب و جلال تھا کہ چڑیاں اس کے پاس سے گزر تیں تو وہ راستہ بدل دیتیں اور اس کے اوپر سے اڑنے کی ہمت نہ کر تیں ۔ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں یہ درگاہ ختم ہو گئی۔ عجیب بات ہے کہ وہ لوگ جن کے رعب و جلال کا یہ عالم تھا کہ جانور ان کے اوپر سے گزرنے کی ہمت نہ کرتے تھے۔ انقلاب کا روار بے خوف و خطر ان کے اوپر سے گزر گیا اور وہ اس کو روک نہ سکے۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ اس قسم کی کہانیوں کو اب بھی لوگ اپنے سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ شبیر پور میں لال خاں کی بہت بڑی درگاہ ہے۔ یہ اکبر کے زمانے کے بزرگ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ "دین الہی" کے مبلغ تھے۔ ان کے تین خاص اصول تھے : تمباکو نہ استعمال کرنا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader