Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 197

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہیے کہ اسی طے ہوئے دائرے کو اپنے عمل کے لیے خاص کر لیں۔ خارجی دنیا کے خلاف شکایت اور احتجاج کا میمورنڈم مرتب کرنے میں وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں، بلکہ گھروں اور مسجدوں کو مرکز بنا کر ایک طرف اپنے رب کے ساتھ اور دوسری طرف اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ جڑ جائیں اور جو دائرہ بھی ان کے لیے باقی رہ گیا ہے، اس کے اندر دینی بیداری کی کوشش جاری رکھیں۔ "میوات" کا لفظ باہر کے لوگوں کے لیے ایک افسانوی نام بن گیا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ میو قوم، جس کے نام سے یہ علاقہ منسوب ہے، اس ملک کی سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم ہے۔ جگہ جگہ قدیم طرز کی درگاہوں کی بڑی بڑی عمارتیں بتاتی ہیں کہ یہ علاقہ سینکڑوں برس سے بزرگوں کی تو جہات کا مرکز رہا ہے۔ ایک میو سلام کے بعد مصافحہ کے لیے اپنا ہاتھ آپ کی طرف بڑھائے گا تو اس کے ہاتھ میں لگی ہوئی تسبیح بتائے گی کہ ان اصلاحی کاموں کے اثرات بھی اس قوم نے قبول کیے ہیں۔ مگر اوراد و نوافل سے اوپر حقیقی دینی تبدیلیاں شاذ و نادر ہی کہیں نظر آتی ہیں۔ ہم گاؤں کے باہر نکلے تو حد نظر تک ہرے بھرے کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ایک کھیت میں گیہوں کی فصل نہایت عمدہ کھڑی ہوئی تھی " یہ کس کا کھیت ہے " میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا۔ " یہ رہن کا کھیت ہے جو ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان سے لیا ہے ۔ " یہ سنتے ہی میری خوشی ختم ہو گئی۔ مجھے حدیث یاد آئی : كل لحم نبت من السحت فالنار أولى به ( ہر جسم جو حرام سے پلے اس کے لیے آگ ہی بہتر ہے ) تاہم اس علاقہ کے لیے یہ کوئی انوکھی مثال نہیں " داڑھی اور تسبیح " والے اسلام کی کثرت کے باوجود یہاں اس قسم کی بے شمار خرابیاں عمومیت کے ساتھ جاری ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ دنیوی عقل ، جو آدمی کے گرد و پیش کے حالات خود اپنے زور پر اس کو سکھادیتے ہیں ، اس سے بھی یہ قوم ابھی تک خالی ہے ۔ میو قوم ایک انتہائی برباد قوم ہے ۔ اس کی بربادی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کو زمانہ کا شعور نہیں ۔ میووں کے درمیان ایک مثل مشہور ہے : جاٹ کہے سن جاٹنی یائی گاؤں میں رہنا اونٹ بلیلے گئی ، ہاں جی ہاں جی کہنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page