Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

اس شعر میں جس مفاہمت اور حقیقت پسندی کا ذکر ہے، وہ میوؤں کے روایتی تصور میں دبی ہوئی قوموں کا طریقہ تھا۔ میوؤں کا خیال اپنے بارہ میں یہ رہا ہے کہ ہمیں دوسروں سے مفاہمت تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، ان کی لاٹھی، ان کے نزدیک اس قسم کی ”بزدلی“ کا بہترین بدل تھی۔ آج زندگی کے معنی بالکل بدل گئے مگر میو اب بھی انھیں روایتی تصورات اور رومانی خیالات میں جی رہے ہیں ۔ آج بھی اگر کوئی معاملہ پیش آجاۓ تو وہ فوراً لڑنے بھڑنے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، خواہ اس کا نتیجہ یہ کیوں نہ نکلے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ برے حال کو پہنچا دیے جائیں ۔ دین اپنی حقیقی شکل میں دنیا کا بھی شعور بیدار کرتا ہے اور آخرت کا بھی۔ مگر اس قابل رحم قوم کے حصہ میں ایک ایسا دین آیا ہے جس نے اس کو نہ دنیا کا صحیح شعور دیا اور نہ آخرت کا۔ دوسرا سفر گنگا پور، راجستھان کا ایک شہر ہے جو دہلی سے ۳۰۰ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ ۸ اگست ۱۹۷۹ء کو ہم دہلی سے پتھروں کے اس شہر کے لیے روانہ ہوئے جہاں چھپر بھی پتھر کے ہوتے ہیں ۔ راستہ میں مسلسل سر سبز و شاداب مناظر آنکھوں کے لیے ”جنت نظارہ“ بن رہے تھے۔ سڑک کے دونوں طرف ساری زمین سبز چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ جگہ جگہ ابھرے ہوئے درخت قدرتی گل بوٹے کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ کھلے آسمان کا منظر اور اس میں بادلوں کی حسین ٹکڑیاں آفاقی حسن کا منظر پیش کر رہی تھیں ۔ ”یہ شاداب حسن کس قدر لذت بخش ہے“ میں نے سوچا ” مگر وہ اپنے اندر تلخیاں بھی لیے ہوئے ہے ۔ ہر سال جب بارش ہوتی ہے تو زمین پر سرسبزی اور شادابی کا ایک اتھاہ حسن آگ آتا ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ کیچڑ اور سیلاب بھی لاتا ہے۔ مکانات گرتے ہیں۔ فصلیں تباہ ہوتی ہیں۔ بارش میں بھیکنے سے کتنی چیزیں خراب ہو جاتی ہیں ۔ پھر مکھی، کیڑے مکوڑے سے وغیرہ طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں“ سر سبز درخت قدرت کی اتنی حسین نعمت میں کہ آخرت میں بننے والی بے پایاں نعمتوں کی دنیا کا نام ہی جنت (باغ) رکھ دیا گیا۔ انسان کی حسین ترین تمنا ہمیشہ یہ رہی ہے کہ سرسبز

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page