Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

درختوں کے جھرمٹ میں عمدہ رہائش گاہ (مَساکِن طیّبۃ فی جَنّاتِ عدن) اسے حاصل ہو۔ زمین پر سرسبزی کا انحصار زیر زمین آبِ اہتمام کے ساتھ ، بڑی حد تک فضائی بارش پر ہے ۔ بارش کے فضائی انتظام کی وجہ سے یہ تمام مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اس کی مصلحت یہ ہے کہ انسان ایک نعمت کو پا کر اس میں مگن نہ ہو جائے ۔ بلکہ اس کی تلخیوں کو بھی بھگتے۔ تاکہ خدا کی یاد اس کے ذہن میں تازہ رہے۔ آخرت میں اس کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے وہاں سرسبزی کو قائم رکھنے کے لیے غالباً فضائی بارشوں کا انتظام ختم یا محدود کر دیا جائے گا۔ اور زیر زمین آبی اہتمام کو زیادہ کامل بنا دیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن میں جگہ جگہ کہا گیا ہے کہ جنت میں سرسبز باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (جنّت تجری من تحتها الانہار) گویا جنت میں آب رسانی کا نظام تحت زمینی ہوگا نہ کہ بالائے زمینی۔ گنگا پور میں تقریباً چھ ہزار مسلمان ہیں اور آٹھ مسجدیں ہیں۔ یہاں ایک رات گزری۔ تیلیوں والی مسجد میں فجر کی نماز کے بعد چند احادیث کی روشنی میں آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی ۔ انسان اپنے دنیا کے ”گھر“ کو بہتر بنانے میں مصروف رہتا ہے ۔ وہ بھول جاتا ہے کہ وہ زندگی سے زیادہ موت سے قریب ہے ۔ کسی بھی وقت خدا کا فیصلہ آکر اس کے گھروندے کو منتشر کر سکتا ہے ۔ اس کے بعد نہ دہ ہو گا نہ اس کی بنائی ہوئی دنیا جس کے بل پر وہ گھمنڈ کرتا تھا ۔ ۹ اگست کی صبح کو ہم اگلے سفر کے لیے گنگا پور اسٹیشن پر گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ ساڑھے آٹھ بجے ٹھیک وقت پر گاڑی شور مچاتی ہوئی پلیٹ فارم میں داخل ہو گئی۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ موت بھی اسی قسم کی ایک سواری ہے جو اپنے مقررہ وقت پر خدا کی طرف سے آتی ہے ۔ کسی کے لیے وہ ”مخصوص سواری“ ہوگی جس پر آرام سے بٹھا کر اعزاز و اکرام کے ساتھ اس کو رب العالمین کی مہمانی کے لیے لے جایا جائے گا۔ کسی کے لیے وہ پولیس کی ” کالی گاڑی“ ہوگی جس کے تنگ و تاریک خوں میں اس کو دھکا دے کر ڈال دیا جائے گا۔ اور کستاں کستاں خدا کی عدالت میں پہنچایا جائے گا تا کہ اس کے کبر اور سرکشی کی درد ناک سزا اسے دی جائے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page