پہلا سفر
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا ابراہیم نے بتایا کہ ، ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں الود اور بھرت پور کے اضلاع میں تقریبا بیس ہزار مسلمان قتل کر دیئے گئے تھے ۔ اس علاقہ میں جمعیۃ علماء نے ریلیف کا جو کام کیا وہ تمام تر مولانا ابراہیم کی قیادت میں انجام پایا ۔ تقریبا ایک لاکھ روپیہ نقد تقسیم کیا گیا ۔ لحاف کمبل اور کھانے کے سامان دیئے گئے ۔ کم وبیش ۵۰ مدرسے کھلواۓ جن کو چار پانچ سال تک جمعیۃ علماء کی طرف سے چارسو روپئے ماہوار دیئے جاتے رہے ۔ جوں جوں مدارس خود کفیل ہوتے گئے امداد بند کی جاتی رہی۔ اب بھی بعض مدارس کو جمعیۃ کی طرف سے رقم دی جا رہی ہے ۔ " پھربساؤ" مہم کے تحت تقریبا تین لاکھ افراد کو دوبارہ لادر بسایا گیا جو اپنا وطن چھوڑ کر گوڑ گاؤں اور یوپی کے علاقوں میں بھاگ گئے تھے ۔ ان کی زمینیں اور مکانات واپس دلائے گئے ۔ یہ ایک طویل مہم تھی جس میں تحصیل دار اور کلکٹر سے کاغذی لڑائی لڑا کر یہ ثابت کرنا، نقشہ بنانا کہ فلاں جائداد فلاں شخص کی ہے ۔ اس کے بعد پولیس کے زور سے قبضہ دلانا ہونا تھا ۔ ایک لاکھ افراد کو ان کی اپنی زمینیں ملیں اور دو لاکھ کو تبادلہ میں زمینیں دی گئیں ۔ اگر چہ یہ تبادلہ اصل ملکیت کے مقابلہ میں بہت کم ہوتا ۔ ۱۹۴۷ء کے فسادات میں پورے مشرقی پنجاب کی طرح الود اور بھرت پور بھی مسلمانوں سے خالی ہو گیا ۔ مسجدیں مسمار کر دی گئیں ۔ زمینوں پر ناجائز قبضہ کر لیا گیا ۔ پورا علاقہ مسلمانوں کے لیے قبرستان بن چکا تھا ۔ اس وقت مولانا ابراہیم واحد شخص تھے جنہوں نے مسلمانوں کو دوبارہ سہارا دیا۔ انہوں نے جمعیۃ علماء اور کانگریس کے لیڈروں کا تعاون حاصل کیا ۔ مہاتما گاندھی گولی کا نشانہ بن چکے تھے ۔ غیر مسلموں میں ونو با بھاوے نے خصوصیت سے ان کا ساتھ دیا ۔ مارچ ۱۹۴۸ء میں وہ دونوں باجی کو دہلی سے بلا کر لے گئے ۔ پورے علاقہ میں ان کا دورہ کرایا ۔ مسلمانوں کے سامنے ان کی تقریریں کرائیں ۔ ایک سال کے دوران میں انہوں نے ونو با بھاوے کو تقریبا دس بار اس علاقہ میں بلایا ۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں حالات اعتدال پر آئے۔ مسلمانوں کی ڈھارس بندھی ، الود اور بھرت پور کے اضلاع میں تقریبا چار ہزار مسجدیں مسمار کر دی گئیں تھیں ۔ بہت سی مسجدوں پر شر نار تھیوں کا قبضہ تھا ۔ ۸۰ مسجدیں کھلواٹی گئیں ، تقریبا دو سو مسجدیں دوبارہ تعمیر کی گئیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader