پندرہواں سفر
Urdu book, p. 200
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۰ بجے ہم ملار نا پہنچے ۔ یہاں پہنچتے ہی جو پہلی خبر ملی وہ یہ کہ دو مسلم خاندان آپس میں لڑ گئے ۔ راستہ بھر قدرتی مناظر سے گزرتے ہوئے مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا گویا یہ کتاب الہی کے بکھرے ہوئے اوراق ہیں جن کو پڑھتا ہوا میں ان کے درمیان سے گزر رہا ہوں ۔ یہ ایک آفاقی نشر گاہ تھی جو خدائی پیغامات کو اس کی حسین ترین شکل میں نشر کر رہی تھی ؎ لوگ حقیقت سے اتنے بے خبر کیوں ہیں جب کہ زمین و آسمان سے مسلسل حقیقت کا اعلان ہو رہا ہے " میں نے سوچا۔ خدائی پیغام رسانی کا یہ کام اتنے حسین ، اتنے ابدی اور اتنے آفاقی انداز میں ہو رہا ہے کہ کوئی کان اس کو سننے سے محروم نہ رہے۔ کوئی آنکھ اس کے مشاہدہ سے خالی نہ رہے۔ پھر بھی کیوں ایسا ہے کہ لوگ اس کے سننے کے لیے بہرے ہیں اور آنکھیں اس کو دیکھنے کے لیے اندھی ہو رہی ہیں "۔ درخت کہہ رہا ہے کہ لوگوں کے لیے سایہ اور پھل کی مانند بنو ۔ پھول کہہ رہا ہے رہیں کہ ایسے بنو کہ تم کو دیکھ کر لوگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور لوگوں کو تم سے خوشبو ملے۔ چڑیاں کہہ رہی ہیں کہ خدا کی حمد کے نغمے گاؤ ۔ ہوائیں کہہ رہی ہیں کہ لوگوں کے بیچ سے اس طرح گزر جاؤ کہ تمھارا سفر بھی جاری رہے اور کسی کو تم سے تکلیف نہ پہنچے ۔ پہاڑ کہہ رہا ہے رہیں کہ لوگوں کے درمیان صبر اور تحمل کی چٹان بن کر رہو ۔ آسمان کہہ رہا ہے کہ اپنے آپ کو اتنا اوپر اٹھا لو کہ نفرت اور شکایت کی باتیں تم کو حقیر نظر آنے لگیں ۔ اس قسم کی بے شمار آوازیں کائنات میں ہر آن اہل رہی ہیں مگر دہ کسی کو سنائی نہیں دیتیں ۔ خیال کا قافلہ یوں ہی چلتا رہا ۔ یہاں تک کہ مجھے ایک حدیث یاد آئی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے شب قدر کا علم دیا گیا اور میں مسجد سے نکلا کہ لوگوں کو بتا دوں ۔ اتنے میں دو مسلمان لڑ گئے ۔ اس لیے وہ علم اٹھا لیا گیا ۔ ( فتل احی الرجلان فرفعت ) گویا جب لوگ باہمی لڑائی جھگڑے کی سطح پر ہوں تو علم الہیٰ کی روشنی ان سے دور ہو جاتی ہے ۔ خدائی کلام کو سننے کے لیے ان کے کان بہرے ہو جاتے ہیں ۔ معرفتِ خداوندی کا فیضان اسی قلب پر اترتا ہے جس کا دل دوسروں کے خلاف بغض و حسد سے خالی ہو۔ جس کا سینہ دوسروں کے خلاف نفرت کا کوڑا خانہ بنا ہوا ہو ، اس میں علم خداوندی کو لے کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader