پندرہواں سفر
Urdu book, p. 201
By Maulana Wahiduddin Khan
چلنے والے پاک فرشتے قدم نہیں رکھتے ۔ ۹ اگست کی شام کو ہم بہتیڑ (ضلع سوائی مادھوپور) پہنچے ۔ یہ بستی دہلی سے تقریباً ۳۵ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ بہتیڑ اور ملارنا دونوں قریب قریب بستیاں ہیں جن کو صرف ایک پہاڑی راستہ جدا کرتا ہے ۔ دونوں ایک دوسرے کا بازد معلوم ہوتی ہیں ۔ دونوں بستیوں میں کئی تقریریں ہوئیں ۔ ان تقریروں کا موضوع مختلف پہلوؤں سے خوفِ خدا اور فکرِ آخرت تھا ۔ یہ پورا علاقہ پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے ۔ سب سے اونچی چوٹی وہ ہے جو بہتیڑ اور ملارنا کے درمیان واقع ہے ۔ اس کے اوپر شاہ محمد اسماعیل کئی کا مزار ہے ۔ ہر جمعرات کے روز یہاں دیئے جلائے جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ سے کئی دیواریں بالکل کالی ہو گئی ہیں ۔ قبر پر دیا جلانا خود ناقابل فہم ہے ۔ مگر یہ اور بھی زیادہ ناقابل فہم ہے کہ ایسا عمل کیا جائے جو بزرگ “ کی درودیوار کو کالک لگانے کے ہم معنی بن جائے ۔ تاہم ایک توہم پرست ذہن کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ کیونکہ توہم پرستی نام ہی ہے متضاد چیزوں کو ذہن میں جمع کرنے کا ۔ اس پہاڑی کے اوپر دوسرا عجیب منظر، بجلی کے کھمبے ہیں ۔ بہتیڑ میں ابھی تک بجلی نہیں پہنچی ۔ مگر اس غیر آباد بلند چوٹی پر ، ملارنا سے ، بجلی کے کھمبے پہنچا دیئے گئے ہیں ۔ یہ پچھلے الیکشن (مارچ ،۱۹۷۹ء) کی برکت ہے ۔ تاہم تاروں کا بھاری بوجھ اٹھائے ہوئے یہ بجلی کے کھمبے ابھی تک قفقوں کے بوجھ سے خالی ہیں ۔ ہم تقریباً دو درجن آدمیوں کے قافلے نے پہاڑ کی اس چوٹی پر عصر کی نماز ادا کی اور دو گھنٹے تک یہاں رہے ۔ کھلا آسمان ، تازہ ہوا ، سرسبز میدان ، پہاڑی سلسلے ، ڈبڈبائی ہوئی ندیاں ، چڑیوں کے چہچہے ، غرض قدرت کے ماحول میں گزرنے والے یہ لمحات بڑے پر کیف تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا گویا ہم زندگی کی ایسی بلند سطح پر پہنچ گئے ہیں جہاں تمام پستیاں تحلیل ہوتی چلی جا رہی ہیں ۔ وہ مسائل جو زمین پر انسان کو الجھائے رہتے ہیں یہاں بے حقیقت ہوتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ آخر میں یہاں ایک نشست ہوئی جس میں دعوتی کام کی اہمیت اور موجودہ زمانہ میں اس کے امکانات پر اظہار خیال کیا گیا ۔ ۱۱ اگست کو ہم گنگا پور ہوتے ہوئے دوبارہ دہلی واپس آگئے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader