Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

تیسرا سفر مارچ ۱۹۸۴ء کا تیسرا ہفتہ میوات میں گذرا۔ اس سفر کا اصل مقصد یہ تھا کہ چند دن شہر سے دور کھلی فضا میں گزارے جائیں شہروں کی دنیا بڑی حد تک مصنوعی دنیا ہوتی ہے مگر جب آدمی آبادیوں سے دور کھلی فضا میں ہو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدرت کے قریب پہنچ گیا ہے ۔ وہ ایک ایسے آفاقی آئینہ کے سامنے ہے جہاں وہ خدا کو براہِ راست دیکھ سکتا ہے ۔ میں نیم کھیڑا (ضلع گوڑگاؤں) کے باہر اونچا ڈرین کے ٹیلے پر کھڑا تھا۔ آسمان کی وسعتیں، پہاڑوں کی بلندیاں ، زمین کے قدرتی مناظر میری آنکھوں کے سامنے تھے ۔ انسانوں کی دنیا سے دور خدا کی دنیا کتنی حسین ہے " میری زبان سے نکلا۔ خدا نے دو چیزوں میں اپنے آپ کو ظاہر کیا ہے۔ ایک عالمِ کائنات ( ید بر الامر ) کی سطح پر ۔ دوسرے الہامی شریعت ( يفصل الآيات) کی سطح پر۔ اول الذکر مقام پر وہ براہِ راست اپنی مرضی کو نافذ کر رہا ہے ۔ ثانی الذکر مقام پر وہ چاہتا ہے کہ انسان خدا کی مرضی کو جانے اور بطورِ خود اس کو اپنی زندگی میں نافذ کرے ۔ " کیا خدا کی دونوں دنیاؤں میں تضاد ہے،" میرے دل نے کہا۔ " کیا تدبیر امر کی سطح پر خدا کچھ اور ہے اور تفصیل آیات کی سطح پر کچھ اور ۔ بقیہ کائنات کو خدا انتہائی محکم قوانین کی بنیادوں پر چلا رہا ہے ۔ مگر انسانوں سے اس کو مطلوب ہے کہ وہ خوابوں اور کرامتوں کی ایک پراسرار دنیا بنا کر اس کی طلسماتی فضا میں زندگی گزاریں ۔ خدا کوششیم یا چنار کا ایک درخت اگانا ہو تو وہ سو سال کا خاموش منصوبہ بناتا ہے ۔ مگر اپنے بندوں سے وہ چاہتا ہے کہ نعروں اور تقریروں کا طوفان اٹھا کر آناً فاناً اپنے مستقبل کو بدل ڈالیں ۔ ستاروں اور کہکشاؤں کی دنیا میں وہ ہر آن متحرک ہے۔ مگر مدرسوں اور خانقاہوں میں وہ جمود اور تقلید پر راضی ہو گیا ہے ۔ پھولوں اور پتیوں میں وہ خوش ذوقی کا دریا بہا رہا ہے ۔ ہوا کے جھونکوں اور پانی کے جھرنوں میں وہ لطافت کا خزانہ بکھیر رہا ہے ۔ آسمانوں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی میں وہ خاموش عظمتوں کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ مگر انسانوں سے وہ چاہتا ہے کہ وہ گدھے اور کوے کی طرح چیخیں اور احتجاج اور مطالبات کی گھمسان آرائی کریں ۔ چھپاتی ہوئی پٹریوں سے لے کر روشن ستاروں تک ، ہری بھری گھاس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page