پندرہواں سفر
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
سے لے کر نیلے آسمان تک ہر طرف اتھاہ حکمت و معنویت نظر آتی ہے ۔ ہر جگہ انتہائی با معنی سرگرمیاں جاری ہیں، مگر اپنے بندوں سے خدا ایسی عبادات پر راضی ہے جس میں کچھ رٹے ہوئے الفاظ کو زبان سے دہرالینے سے بڑے سے بڑے مقامات طے ہوتے ہیں اور عالی شان جنتیں حاصل ہوجاتی ہیں“۔ حقیقت یہ ہے کہ جو دین آج مقرینِ اسلام اور مفکرینِ ملت ہر طرف تقسیم کر رہے ہیں، اس کو دین کہنا اس قرآن پر انہام ہے جس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ ویسا قرآن سارے جن وانس مل کر بھی تصنیف نہ کرسکیں ۔ ایسا دین خدا کی اس عظیم و حسین کائنات کے اندر ایک مسخرہ پن کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ کائنات کی سطح پر دیکھے تو معلوم ہوگا کہ خدا کی دنیا رنگ اور خوشبو بکھیرنے والے پھولوں اور پیار اور بے نفسی کا سبق دینے والی چڑیوں کے لیے ہے ۔ مگر دین کے ٹھیکیدار آج جس دین کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا خدا کی جنت نکے لوگوں کا کباڑ خانہ ہے یا مسخروں کی نمائش گاہ ۔ یہ بات آج لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ۔ مگر جب صور پھونکا جائے گا اور ساری حقیقتیں کھل جائیں گی، اس وقت لوگ اس کو اپنی آنکھ سے دیکھ لیں گے ۔ اگر چہ اس وقت کا دیکھنا کسی کے کام نہ آئے گا ۔ یہاں چند مجلسوں میں وعظ و نصیحت کا موقع بھی ملا ۔ زیادہ تر حدیثیں اور صحابہ کے واقعات سنائے گئے ۔ ایک تقریر کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے ۔ جب مجھ کو کہیں تقریر کرنی ہوتی ہے تو ہمیشہ ایک سوال میرا پیچھا کرتا ہے ”کیا بات ہے جو میں کہوں “ واقعہ یہ ہے کہ کوئی بات ایسی نہیں جو کہی نہ جا چکی ہو ۔ عربی شاعر عنترہ کا ایک شعر ہے : ہل غادر الشعراء من متردم کہ کیا پہلے شعراء نے کوئی پیوند لگانے کی جگہ باقی چھوڑی ہے جس کو ہم پورا کریں ۔ دینی اور اخلاقی لحاظ سے یہ بات اور زیادہ صحیح ہے حقیقت یہ ہے کہ کہنے والے ساری بات کہہ چکے ہیں ۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ سننے والوں کا قافلہ سننے سے پہلے جس راستہ پر چل رہا تھا، اسی راہ پر سننے کے بعد بھی چلا جا رہا ہے ۔ گویا اصل مسئلہ کہنے کا نہیں ہے ۔ اصل مسئلہ کہنے کو پکڑنے کا ہے ۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کے لیے کوئی تیار نہیں ۔ میوات میں تین سو سال پہلے ایک صوفی شاعر گزرے ہیں ۔ ان کے اشعار اکثر میواتیوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader