پندرہواں سفر
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
کو یاد ہیں ۔ ان کا ایک شعر ہے ۔ پی پیار سے کے دیس کی بڑی کٹھن ہے گیل کوئی کوئی بائینگوبھیک جی سلجھا سلجھا بیل میں سمجھتا ہوں کہ آدمی اگر پکڑ لے تو یہی ایک شعر اس کی اصلاح کے لیے کافی ہے ۔ بھیک جی کہہ رہے ہیں کہ آخرت کا راستہ بڑا کٹھن ہے ۔ یہ جھاڑیوں سے بھرا ہوا ہے ۔ وہی شخص منزل پر پہنچے گا جو جھاڑیوں سے بچ بچ کر چلے ۔ جو اس قسم کا اہتمام نہیں کرے گا وہ راستہ میں الجھ کر رہ جائے گا ۔ میو لوگ کس حد تک اس پر عمل کر رہے ہیں ، اس کے لیے میں یہیں کا ایک واقعہ سناتا ہوں ، کل (۱۸ مارچ ۱۹۷۸) صبح دس بجے ہم گاؤں کے باہر تھے ۔ وہاں سرکار کی طرف سے بند بنایا جا رہا ہے۔ سینکڑوں مرد ، عورتیں مٹی ڈھونے میں لگے ہوئے ہیں ۔ ایک عورت جومٹی کا ٹوکرا اٹھائے ہوئے تھی ، ایک مرد نے اس سے کہا کہ ”یہاں مٹی ڈال‘‘ اس پر عورت بگڑ گئی ۔ تو کون ہوتا ہے بتانے والا‘‘ اس نے کہا ۔ پہلے لفظی تکرار ہوئی ۔ اس کے بعد دونوں طرف سے لاٹھیاں آگئیں ۔ کچھ لوگ مرد کی طرف سے اور کچھ عورت کی طرف سے جمع ہو گئے اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن کر ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے ۔ یہ سارے کے سارے مسلمان تھے ۔ وہ خوب جانتے تھے کہ ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کی جان ، مال ، آبرو حرام ہے ۔ مگر جب ایک ”جھاڑی‘‘ آگئی تو اس سے بچ کر نکلنے کے لیے وہ تیار نہ ہوئے ۔ وہ جھاڑی سے الجھ گئے ۔ وہ بھول گئے کہ اس طرح وہ اپنی آخرت کی منزل کو کھوٹا کر رہے ہیں ۔ آپ لوگ داڑھی بھی رکھتے ہیں نماز اور تسبیح بھی پڑھتے ہیں ۔ مگر جہاں کوئی جھاڑی آئی ، اس میں الجھ کر رہ جاتے ہیں ۔ اس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ خدا کا فکر دلوں میں پیدا نہیں ہوا ۔ ہم نے آخرت کو اپنی منزل نہیں بنایا ۔ ہاتھ میں تسبیح کیوں نہ ہو ۔ عملاً سارے لوگ دنیا کی منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔ صرف یہ ہے کہ کوئی ”بے داڑھی‘‘ ہو کر اس طرف بھاگ رہا ہے ، کوئی داڑھی اور تسبیح لیے ہوئے اس مقدس سفر میں مشغول ہے ۔ مومن کا ہر مسئلہ آخرت کا مسئلہ ہے ۔ مگر ہماری زندگی میں جب کوئی صورت پیش آتی ہے تو ہم فوراً اس کو دنیا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں ۔ مثلاً لڑکی کی شادی کو لیجئے ۔ ایک میو کے گھر میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader