Urdu book · میوات کا سفر

پندرہواں سفر

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

میوات کا سفر ۱۹۷۲ میں جب میں پہلی آیا تو "میوات" کا ایک افسانوی تصور میرے ذہن میں تھا۔ یہ خواہش تھی کہ وہاں چل کر خود اپنی آنکھ سے دیکھا جائے کہ میوات کیا ہے۔ پہلی بار میں ۱۹۶۹ میں میوات گیا اور وہاں ۴۴ گھنٹے گزارے ۔ اس کے بعد اگلے دس سال کے عرصہ میں بار بار میوات کا سفر ہوتا رہا۔ اب کچھ لوگوں کا مشورہ ہوا کہ ان پچھلے سفر ناموں کو اکٹھا کر کے انھیں ایک کتاب کی صورت میں شائع کر دیا جائے ۔ ان سفر ناموں کو دوبارہ مرتب کرتے ہوئے خیال آیا کہ یہ اسفار پندرہ سال پہلے کے زمانہ میں پیش آئے تھے ۔ ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک بار اور میوات کے علاقہ کا سفر کر لیا جائے تاکہ میرا مشاہدہ مطابق حال ہو جائے ۔ اس کے مطابق میوات کا زیر تذکرہ سفر ہوا۔ یہ سفر میں نے بالقصد بذریعہ بس کیا تاکہ میں عام میواتیوں کو ان کے اپنے ماحول میں دیکھ سکوں اور زیادہ قریب سے میوات کا مشاہدہ کر سکوں۔ اس سفر میں مولانا عبدالرحیم بڑیوی میرے ساتھ تھے ۔ ان سے میں نے مقصد سفر کا ذکر کیا تو انھوں نے مسکرا کر کہا: "میوات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ پندرہ سال پہلے آپ نے میوئوں کو جس حال میں دیکھا تھا ، وہیں آج بھی وہ پڑے ہوئے ہیں " ۔ سفر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ واقعی ان کا بیان صحیح تھا۔ میوات کے دوسرے فرقوں کے لیے زمین حرکت میں ہے مگر میوئوں کے لیے زمین بدستور رکی ہوئی ہے ، میوئوں کے لیے وہ حرکت نہیں کرتی۔ ایک صاحب نے بس کا تازہ لطیفہ بتایا ۔ ایک عمر رسیدہ میوتی بس میں داخل ہوئی ۔ وہ بس کے اندر ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ کہاں بیٹھے ۔ ایک مسافر نے ازراہ تفریح ڈرائیور کی سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھ وہ سیٹ خالی ہے ، اس پر بیٹھ جائو۔ میوتی اپنی گھمڑی لیے ہوئے وہاں پہنچی اور "خالی سیٹ" پر بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر میں ڈرائیور اندر داخل ہوا۔ "عورت تو یہاں کہاں بیٹھ گئی۔ یہاں سے تو میں بیٹھ کر گاڑی چلاؤں گا " ڈرائیور نے کہا۔ میوتی نے نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی گھمڑی سنبھالتے ہوئے جواب دیا : میں تو چوکی بھی بیٹھی ہوں ، تو کہیں اور سے چلا لے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page