پندرہواں سفر
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا یہ مطلب نہیں کہ میواتی مرد یا عورتیں خدا نخواستہ پیدائشی طور پر کم سمجھ ہوتے ہیں ۔ وہ بھی یقیناً وہی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتے ہیں جو دوسرے انسان لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔ یہ دراصل تعلیم کی کمی ہے جس کی بنا پر میوؤں کا شعور ارتقاء نہیں کر پاتا ۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ ایک بوڑھی میونی بازار گئی۔ اور پچاس روپے میں ایک زنانہ جوتا خرید کرنے آئی ۔ گاؤں کی عورتوں نے دیکھ کر پوچھا کہ یہ جوتا تم نے کتنے میں خریدا۔ میونی نے کہا کہ ” آٹھ آنے میں “ عورتوں نے کہا کہ کیوں مذاق کر رہی ہو ، صحیح دام بتاؤ۔ میونی نے کہا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہوں ۔ بات یہی ہے۔ عورتوں کو یقین نہیں آیا کہ ایسا جوتا آٹھ آنے میں مل سکتا ہے ، چنانچہ وہ اصل قیمت جاننے کے لیے اصرار کرتی رہیں۔ آخر میونی نے کہا کہ بات یہ ہے کہ پہلے میں ایک سیر گھی بازار لے جاتی تھی اور آٹھ آنے میں بیچتی تھی ۔ پھر آٹھ آنے کا جوتا خرید کر لاتی تھی ۔ اب میں ایک سیر گھی لے کر بازار گئی تو میرا گھی پچاس روپے میں بکا اور جوتا بھی پچاس روپے میں ملا۔ تو میرے لیے تو جیسا پچاس روپیہ ویسا آٹھ آنے ۔ مذکورہ میونی نے اقتصادیات کے ایک اصول کو نہایت کامیابی کے ساتھ سادہ لفظوں میں بیان کر دیا ہے ۔ یعنی قیمت کے تعین کے اصول کو ۔ ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۰ء کی صبح کو ساڑھے چھ بجے دہلی سے بذریعہ بس روانگی ہوئی۔ شاہ جہاں آباد کی فصیلوں اور لال قلعہ کی دیواروں کو پیچھے چھوڑتے ہوتے ہماری بس آگے بڑھتی رہی۔ فرید آباد، بلب گڑھ، پلول، ہوڈل، کوسی ہوتے ہوئے ہم کامار ضلع بھرت پور) پہنچے۔ کاما ایک تاریخی قصبہ ہے۔ قدیم راجہ کے محل اب بھی یہاں ٹوٹی ہوئی حالت میں موجود ہیں ۔ ۱۹۴۷ء سے پہلے محلہ قاضی پاڑہ میں مسلمانوں کی آبادی تھی ۔ تقسیم کے بعد صاحب حیثیت لوگ زیادہ تر پاکستان چلے گئے۔ اس وقت یہاں ایک جامع مسجد زیر تعمیر تھی۔ عین اسی زمانہ میں تقسیم کا ہنگامہ پیش آیا اور مسجد اس حال میں پڑی رہ گئی کہ دیواریں کھڑی ہوئی تھیں مگر چھت غائب تھی ۔ صحن اور فرش کی جگہ گڑھے تھے ۔ ویران مسجد جانوروں کی آماج گاہ بن گئی ۔ ۳۰ سال سے زیادہ عرصے کے بعد حاجی رحیم بخش کو خیال آیا کہ اس کی تعمیر کریں اور اس کو باقاعدہ آباد کریں۔ انھوں نے ” آسمان کے سایہ کے نیچے “ اور صرف اللہ کے بھروسہ پر کام شروع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader