پہلا سفر
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
خوف وہراس کا عالم یہ تھا کہ ضلع الور میں، ہزار مسلمان شدھی ہوگئے تھے۔ ۳ ہزار نے ضلع بھرت پور میں اسلام کو چھوڑ کر ہندو مذہب کو اختیار کر لیا تھا اور چوٹیاں رکھ لی تھیں ۔ مولانا ابراہیم اس معاملہ میں جان پر کھیل گئے۔ونو با بہادے ستینم بھائی، مولانا حفیظ الرحمن وغیرہ کا دورہ کرایا۔خالی مسجدوں میں جا جا کر اذانیں دیں تاکہ مسلمانوں کا خوف وہراس دور ہو۔ ان کی چوٹیاں کٹوائیں اور سب کو دوبارہ اسلام میں داخل کیا۔ دھولی دوب، چاندولی (ضلع الور) وغیرہ مقامات پر یہ کیفیت ہو گئی تھی کہ نکاح کے بجائے پھیرے کا ہندو دانہ طریقہ رائج ہو گیا تھا۔ وہاں جا کر اسلامی نکاح کا طریقہ دوبارہ رائج کیا۔ اس کام میں مولانا ابراہیم کو سخت ترین مخالفتیں پیش آئیں ۔ آریہ سماج کے لوگوں نے صدر جمہوریہ کو سیکڑوں تار دیئے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ لوگ زبردستی ہندوؤں کو مسلمان بنا رہے ہیں۔ مگر مولانا ابراہیم ساری رکاوٹوں سے لڑتے رہے۔ بالآخر ایک ایک کر کے سارے منحرف لوگوں کو دوبارہ مسلمان بنا ڈالا۔ شہر الور میں ننگلی کے چوراہے پر آپ کھڑے ہوں تو ایک اسکوائر پارک کے درمیان نو تعمیر اشوک کی لاٹ کھڑی ہوئی نظر آئے گی ۔ یہاں تقمیم سے قبل الور کی جامع مسجد تھی ۔ فساد کے زمانہ میں اسے منہدم کر دیا گیا ۔ اس کے بعد جب حکومت نے اسے موجودہ شکل میں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا تو یہاں ایک ” دیوانہ “ سرکار کی راہ میں آکر کھڑا ہو گیا یہ مولانا ابراہیم تھے۔ حکومت ہر ایک سے نمٹ سکتی تھی مگر مولانا ابراہیم کو نظر انداز کرنا اس کے بس میں نہ تھا۔ ۱۹۶۳ء کا واقعہ ہے وہ اس سلسلے میں دلی گئے تاکہ مرکزی سیاستدانوں کو آمادہ کریں کہ وہ مقامی حکام کو ان کے ارادے سے باز رکھیں ۔ مگر مولانا ابراہیم کی الور سے غیر حاضری مقامی حکام کے لیے سنہری موقع بن گئی ۔ انہوں نے درجنوں پٹرولیکس جلا کر اور سیکڑوں مزدور لگا کر صرف ایک رات میں مسجد کی جگہ پر اسکوائر تعمیر کر ڈالا اور لاٹ بنا کر کھڑی کر دی۔ یہی الور کی تمام مسجدوں کا حال ہوا ہے۔ پٹواری کی رپورٹ کے مطابق الور میں ۱۱ مسجدی تھیں ۔ ساری مسجدیں مسمار کر دی گئیں اور ان پر نئی تعمیرات کھڑی کر دی گئیں ۔ ٹاؤن ہال کے سامنے چوک پر جو خریداروں سے بھری ہوئی دکانیں نظر آتی ہیں ، ان میں ایک طرف کی دکانیں وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader