Urdu book · میوات کا سفر

پہلا سفر

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہیں جو قدیم مسجد کے بیرونی حصہ میں تعمیر ہوئی ہیں ۔ ہم نے دوکانوں کے پیچھے جاکر دیکھا تو اندر اب بھی اسپینی طرز کے محراب نما دروازے مسجد کی باقیات کے طور پر موجود تھے ۔ دتی سے الور جانے والی ٹرین جب اسٹیشن کے حدود میں داخل ہوتی ہے تو مسافر کو اسٹیشن سے ایک فرلانگ کے فاصلہ پر عین لائن کے کنارے پتھر کی نصف تعمیر شدہ دیواریں نظر آتی ہیں۔ یہ داؤد پور والی مسجد کے نشانات ہیں جو الور کی پہلی مسجد ہے جو ۱۹۷۷ء کے ہنگامہ کے بعد دوبارہ تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد بہترین مرکزی جگہ پر واقع ہے ۔ دیگر مساجد کی طرح اس کو بھی برباد کر دیا گیا تھا۔ مگر مولانا ابراہیم وہاں اپنا " کھونٹا گاڑ کر بیٹھے گیے اور اس کو دوبارہ تعمیر کر ڈالا ۔ اس مسجد کے ساتھ ایک بزرگ حضرت رکن الدین کا مزار اور درگاہ بھی ہے جو اس علاقہ میں "الور کے پیر" کے نام سے مشہور ہیں ۔ اس درگاہ کو توڑ کر اس کی قبر تک ظالموں نے کھود ڈالی تھی مسجد مکمل طور پر منہدم کر دی تھی ۔ مزار کی عمارت تعمیر ہوگئی ہے اور مسجد کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ دیواریں بھی کچھ اوپر آگئی ہیں۔ مگر سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے کام رک گیا ہے۔ اس مسجد کے ساتھ کافی زمین بھی ہے۔ اگر پوری زمین کی حد بندی ہو جائے ، مسجد تعمیر ہو جائے ، اس کے ساتھ ایک مدرسہ بن جائے تو یہ جگہ الور میں ایک قسم کا اسلامی مرکز بن سکتی ہے ، جہاں اسلام کا لٹا ہوا قافلہ دوبارہ اپنے کو منظم کرکے سفر شروع کرنے کے قابل ہو سکتا ہے ۔ اللہ کی یہ مصلحت بھی عجیب ہے کہ مولانا ابراہیم جو اس علاقہ میں واحد شخص تھے جو اس قسم کے کاموں کو جرأت اور اعتماد کے ساتھ کر سکیں ۔ وہ دو سال سے مفلوج ہو گئے ہیں اور صرف اس مقابل ہیں کہ داؤد پور کی اس مسجد کے پاس کرسی بچھا کر صبح سے شام تک بیٹھے رہیں اور مسجد کے شکستہ در و دیوار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page