Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

پندرہ سال سے مدرسہ مدینہ (بہادس) میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ مولانا کو یہاں کے مدرسہ کی طرف سے اب وظیفے کے بعد ۵۰ روپے اور دو من غلہ ملتا ہے ۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ مدارس کے ذریعہ جو لوگ دینی خدمت کمررہے ہیں وہ کتنے ایثار و قربانی کے ساتھ یہ کام انجام دے رہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ محض اس سے خرچ پورا نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ گھر سے لے کر کام چلتا ہے ۔ اس حالت میں محنت کا یہ عالم ہے کہ صبح سے شام تک طلبہ کے ریؤڑ سے نمٹتے رہتے ہیں اور اس ساری جدوجہد کے پیچھے خدا کے انعام کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اگر صرف دینی مدارس کی مثال کو سامنے رکھا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم دنیا کے سب سے بڑے ایثار پیشہ افراد کا عظیم ترین دستہ اپنے پاس رکھتے ہیں ۔ مگر اس ایثار و قربانی کو وسیع معنوں میں مفید اور موثر بنانے کے لیے کچھ اور چیزوں کی بھی ضرورت ہے اور افسوس کہ وہی ہم کو حاصل نہیں ۔ "اصل چیز یہ ہے کہ میں نے اپنے آپ کو اس مدرسہ کا ملازم نہیں سمجھا" مولانا سہیل احمد صاحب نے سادگی کے ساتھ فرمایا جس میں نہ کوئی نمائش رکھتی نہ اظہار فخر اور مدرسہ اور مسجد کا پورا ماحول ان سیدھے سادے الفاظ کی تصدیق کر رہا تھا ۔ بہادس سے ہمیں نگینہ (ضلع گڑگاؤں) جانا تھا۔ نگینہ کے قریب ہم ایک چورا ہے پر پہونچے جہاں سڑک کے کنارے ایک بہت بڑی نو تعمیر بلڈنگ کھڑی ہوئی تھی "یہاں دن کو بھی لوٹ مار ہوتی تھی " ایک شخص نے بتایا " مگر جب سے لالہ جی نے یہ بلڈنگ اور کنواں بنوایا ہے، یہاں چھوٹا سا بازار بن گیا ہے ۔ ہر وقت چہل پہل رہتی ہے ۔ اب بے خوف وخطر لوگ دن رات یہاں سے گزرتے ہیں" یہ کہتے والاکھہ رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا " اقتصادیات کو لوگ صرف مالیات کے ہم معنی سمجھتے ہیں ۔ مگر حقیقتاً اس کا تعلق زندگی کے بے شمار معاملات سے ہے ۔ اس چوراہہ پر کسی اور طریقے سے امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی جاتی تو کتنی مشکل پیش آتی ۔ مگر ایک سرمایہ دار نے وہاں ایک بڑی بلڈنگ کھڑی کر دی۔ اس کے بعد وہاں دکانیں اور ہوٹل بن گئے اور لوٹ مار کا مقام انسانی سرگرمیوں کا مقام بن گیا " اس جگہ کا نام برکلی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page