Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

مزید مجھے بتایا گیا کہ جس لالہ نے یہ بازار بنوایا ہے، اس کے باپ کا یہ حال تھا کہ اس کو آٹھ آنے کی چیز بھی دکاندار ادھار نہیں دیتا تھا، مگر آج اس کا کاروبار کئی اضلاع میں پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرف میو قوم تمام زمینوں کے مالک ہوتے ہوئے تیزی سے بدحالی کی طرف جا رہی ہے اور دوسری طرف انہیں کے وطنی بھائی مسلسل علمی اور اقتصادی ترقی کر رہے ہیں۔ ایک طرف جزرہ اور دوسری طرف مدد کا یہ غیر معمولی تناسب بے حد خطرناک ہے۔ اگر یہ عمل اسی طرح جاری رہا تو مستقبل میں میو قوم کا وہی حال ہوگا جو اس ملک میں اچھوتوں کا ہو چکا ہے۔ نگینہ میں مدرسہ اسلامیہ عربیہ دار العلوم میں کچھ وقت گزرا۔ یہاں مشکوٰة اور جلالین تک تعلیم ہوتی ہے۔ اس کے صدر مدرس مولانا ظفر الدین صاحب ہیں ۔ نگینہ تقریباً نوے میل چوڑے اور ۵۰ میل لمبے علاقہ میوات کے درمیان واقع ہے۔ جائے وقوع کے اعتبار سے یہ مدرسہ اس علاقہ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ مدرسہ کے لیے زمین حاجی چاند خاں صاحب نے دی ہے ۔ نگینہ سے باہر چھپروں سے ڈھکی ہوئی چند عمارتیں اپنی دو ایکڑ زمین میں تقریباً سوا سو طلبہ اور چار اساتذہ کو بسائے ہوئے ہیں۔ نگینہ کے بازار کے باہر یہ سادہ بستی اپنی سادہ طرز زندگی کے ساتھ پناہ گزینوں کا کیمپ معلوم ہوتی ہے۔ یہ شاید موجودہ زمانہ میں دینی حالت کی تمثیل ہے۔ کیونکہ آج دین کی حالت یہی ہے کہ وہ زندگی کی سرگرمیوں سے نکال دیا گیا ہے اور دور افتادہ مقامات پر پناہ گزیں کی شکل میں پڑا ہوا ہے۔ میں قصبہ میں بھی گیا اور ”فتح محمد ، نذیر محمد صاحبان سے ملا۔ نگینہ میں تقریباً آٹھ سو خاندان آباد ہیں جن میں دو سو خاندان مسلمان ہیں۔ میں نے پوچھا یہاں کتنی دکانیں مسلمانوں کی ہوں گی ؟ ” ایک بھی نہیں “ یہ جواب سن کر مجھے بڑا تعجب ہوا۔ ابھی میں بولنے ہی والا تھا کہ دوسرے شخص نے کہا : ”کیوں نہیں ۔ وہ جتا کی دوکان ہے نا سیکل کی مرمت کی “ ” وہ بھی کوئی دکان میں دکان ہے !“ پہلے شخص نے کہا ۔ میں نے جاکر دیکھا تو وہ معمولی لکڑی کا کھوکھا تھا۔ جس کو واقعی دکان کہنا مشکل ہے۔ یہاں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page