دوسرا سفر
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان یا تو کھیتی کرتے ہیں یا مزدوری ۔ نگینہ کے اطراف میں ۸۵ گاؤں آباد ہیں اور نگینہ ان سب کا مشترک بازار ہے ۔ ان دیہاتوں میں ۹۵ فی صد مسلمان آباد ہیں۔ مگر نگینہ میں کوئی مسلمان دکان دار نہیں۔ مسلمان صرف غلہ پیدا کرتے ہیں ۔ باقی ساری ضروریات دوسروں سے خریدتے ہیں ۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہاں کی زراعت کا بیشتر انحصار بارش پر ہے۔ بارش نہیں ہوئی یا کم ہوئی تو میئوں کے کھیت غلہ نہیں اگاتے ۔ نتیجہ یہ ہے کہ انہیں غلہ خریدنا پڑتا ہے بیل یا بھینس مر جائے تو اس کی خریداری کے لیے پیسے نہیں ہوتے ۔ کپڑا اور دوسری ضروریات کے لیے بھی قرض لینا پڑتا ہے ۔ یہ قرض دوبارہ وہی مہاجن دیتا ہے جو پہلے سے تمام ذرائع معاش کا مالک بنا ہوا ہے ۔ یہاں آکر مہو سودی قرضوں کے جال میں پھنس جاتا ہے جس سے پھر کبھی نکلنا نصیب نہیں ہوتا ۔ ” کتنے مسلمان سودی قرضوں سے بچے ہوئے ہوں گے “ میں نے فتح محمد سے پوچھا ۔ ” یہی جی سو میں کوئی پانچ بچے ہوئے ہوں گے “ اس کا جواب تھا ۔ پونا ہانا ( ضلع گوڑ گاؤں ) میں عصر کی نماز پڑھی ۔ یہاں مولانا محمد سلیمان صاحب ، شرو دان صاحب عبد السلام صاحب اور یاسین خاں صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ قصبہ پونا ہانا کی آبادی تقریباً سات ہزار ہے جس میں مسلمان دو ہزار ہوں گے ۔ مسلمانوں کا ذریعہ معاش اس علاقہ کے دوسرے مقامات کی طرح زراعت یا مزدوری ہے ۔ روئیں مسلمان معمولی تجارت کرتے ہیں ۔ ساری تجارت غیر مسلموں کے قبضہ میں ہے ، حتیٰ کہ وہ تجارتیں بھی جن کا تعلق تمام تر مسلمانوں سے ہے ۔ مثلاً اردو کی مذہبی کتا ہیں ، مدارس اسلامیہ کے نصاب ، سپارے اور قرآن مجید وغیرہ کے خریدار صرف مسلمان ہوتے ہیں۔ مگر یہاں اس کو بیچنے والا صرف ایک غیر مسلم ہے ۔ میں نے خود بازار میں جاکر ” یہ پشک بھنڈار “ دیکھی ۔ قرآن کی جلدیں الماری کے سب سے اوپر کے حصہ میں نظر آرہی تھیں ۔ الجمعیۃ بک ڈپو کا مطبوعہ اردو نصاب بھی یہاں رکھا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کے لیے اپنی مذہبی کتابیں اور تعلیمی نصاب خریدنے کے لیے یہاں اس دکان کے سوا اور کوئی ذریعہ نہیں ۔ پونا ہانا سے ہمیں بڈیڈ جانا تھا جو میرے رفیق سفر مولانا عبدالرحیم صاحب کا وطن ہے ۔ یہاں سڑک نہیں ہے ۔ ۷ ۔ ۸ میل کا یہ راستہ ہمیں سائیکل سے طے کرنا ہوتا ۔ اونچی نیچی پگڈنڈیاں جن کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader