دوسرا سفر
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
بیل گاڑیوں کی آمدورفت نے پامال کر رکھا تھا ہماری سائیکل کی واحد گزر گاہ تھی۔ پھیلے ہوئے کھیتوں کے درمیان جگہ جگہ ابھری ہوئی پہاڑیوں پر بستیاں آباد تھیں۔ پہلے زمانہ میں شاید حفاظت کے خیال سے بلندیوں پر مکان بنانا پسند کرتے تھے۔ ایک گاؤں جس کا نام مجھے سہری بتایا گیا عجیب منظر کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ یہ موروں کے جھنڈ تھے۔ لمبی چک دار دم لیے ہوئے مور اس طرح گھوم رہے تھے جیسے وہ قدرت کے اس عظیم عطیہ سے بوجھل ہو رہے ہوں۔ ایک گاؤں سے ہم لوگ گزر سے جہاں کچھ چھوٹے بچے کھیل رہے تھے "کہیں جلوہ ہے، کہیں جلسہ ہے" ایک نے دوسرے سے کہا۔ داڑھی اور مذہبی حلیہ میں چند لوگوں کا سفر اس علاقہ میں یہ معنی رکھتا ہے کہ یہ قافلہ کسی تبلیغی جلسہ میں جا رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت کا یہاں کس قدر کام ہو رہا ہے اور اس کا یہاں کتنا زیادہ اثر ہے۔ مسلم عورتیں (جن کو یہاں میونی کہتے ہیں عام طور پر باہر پھرتی ہوئی نظر آئیں ۔ شاید یہاں پردہ کا کوئی رواج نہیں ہے۔ ایک جگہ میں نے دیکھا کہ مکان کی نیچی سی چھت پر ایک خاتون کسی پردہ کے بغیر برسرِ عام نماز ادا کر رہی تھی۔ یہ دیکھ کر مجھے علی گڑھ کا ایک واقعہ یاد آیا۔ وہاں میں ایک دکان پر بیٹھا ہوا تھا دو بے پردہ عورتیں آئیں۔ انہوں نے پانی مانگا۔ پانی لے کر انہوں نے وضو کیا اور وہیں سائبان میں نماز کے لیے کھڑی ہوگئیں۔ یہ منظر علی گڑھ کی فضا میں بھی عجیب تھا۔ مگر میوات میں تو وہ عجیب تر معلوم ہوا ۔ بٹینڈ میں مولانا عبد الرحیم صاحب کے والد جناب میاں جی عبدالغفور صاحب سے ملاقات میرے لیے بڑی خوشی کا باعث تھی۔ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو دیکھا ہے اور ان کے ساتھ عرصے تک کام کیا ہے۔ بٹینڈ ان بستیوں میں سے ہے، جہاں میوات میں تبلیغ کا ابتدائی کام شروع ہوا تھا۔ میاں جی عبدالغفور صاحب ۳ سال سے معمولی ابتدائی مدرسہ میں کام کر رہے ہیں۔ ان کے لیے کئی اس سے اچھی معاش کی صورتیں ہو سکتی تھیں۔ مگر وہ قانع ہو کر مدرسہ کی خدمت میں لگے رہے۔ بٹینڈ میں مولانا حسن خاں سے ملاقات ہوئی۔ یہ بارہ سال پہلے مدرسہ امینیہ دہلی سے فارغ ہوئے تھے۔ یہ میوات کے ان معدودے چند لوگوں میں ہیں جنہوں نے تعلیم کے بعد زراعت کا پیشہ اختیار کیا ورنہ تعلیم کے بعد یہاں کے لوگ زراعت یا کاروبار کو پسند نہیں کرتے۔ "مجھے اخبارات پڑھنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader