دوسرا سفر
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
فرصت نہیں، مگر ہفت روزہ الجمعیۃ کو میں پابندی کے ساتھ پڑھتا ہوں“ انہوں نے کہا ”آپ کے آنے سے اس میں جو کمی تھی وہ پوری ہو گئی“۔ بڈیڈ میں ایک مزار ہے۔ اس میں یہاں کے مشہور بزرگ اور شاعر ”بھیگ جی“ دفن ہیں جن کا زمانہ نین سو برس پہلے بتایا جاتا ہے۔ مولانا حسن خان صاحب نے ان کا ایک شعر سنایا : ہر ڈ ڈنڈ را ڈڈ اور آس ن ڈڈ بھی ہو مرے تو سہی بھیک جی پر بڑھا کبھی نہ ہو مطلب یہ ہے کہ کم کھانے، کم سونے اور قوت مردانگی کم استعمال کرنے پر سختی سے قائم رہو۔ موت اگر چہ اس کے بعد بھی آئے گی ۔ مگر تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے۔ قصبہ بڈیڈ پہاڑی کے عین دامن میں واقع ہے فجر کی نماز کے بعد ہم لوگ پہاڑی پر چڑھے تو وہاں دوسری پہاڑی تک پورا منظر آنکھوں کے سامنے تھا۔ ایک طرف تقریباً پانچ سو ایکڑ زمین شور ہو کر بنجر حالت میں پڑی تھی۔ معلوم ہوا کہ راجستھان کے علاقے سے پہاڑوں کا پانی آتا ہے جس نے اس پوری زمین کو بیکار کر دیا ہے اور اس کے بچاؤ کا کوئی اہتمام نہ ہو سکا ۔ دس برس پہلے اسی زمین پر بہترین فصل حاصل کی جاتی تھی۔ گاؤں والوں نے بتایا کہ یہ صورت حال چک بندی کے بعد پیش آئی ہے جب کہ تمام پرانی مینڈیں ختم کر دی گئیں اور اس کی وجہ سے پانی کا نظام خراب ہو گیا ۔ ۲۸ مئی کی صبح کو ہم بڈیڈ سے روانہ ہوئے راستہ میں حجرہ (راجستھان) میں چند منٹ قیام کیا یہاں ایک میواتی فتقعد ملومًا محسورًا (بنی اسرائیل (۲۹) کی تصویر بنا ہو گھر کے باہر بیٹھا ہوا تھا حال پوچھنے پر معلوم ہوا کہ شادی میں چھ ہزار روپے قرض لے کر خرچ کر دیئے ۔ اب اصل مع سود کی ادائیگی کا سوال اس کے دماغ پر مسلط ہے ۔ وہ بیٹری کے کش لے کر اپنا غم غلط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہوتا، مجھے اس کی حالت پر اتنا دکھ ہوا کہ میں اس سے کوئی بات بھی نہ کر سکا ۔ یہاں شادی کے موقع پر ”منوں“ میں روپیہ دینے کا رواج ہے اور جہالت کا یہ عالم ہے کہ اپنے پاس نہیں ہوتا تو سودی قرضے لے کر اور زمین رہن رکھ کر مہاجن سے حاصل کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص نے حال میں ساڑھے سات من روپیہ لیا ۔ قدیم زمانے میں چاندی کے سکے ایک تولہ کے برابر ہوتے تھے اور سیر میں ۸۰ روپے نکلتے تھے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader