دوسرا سفر
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
اسی حساب سے یہاں شادی میں لڑکی والے کو روپیہ دیتا ہے ۔ ایک من روپیہ کا مطلب ہے تین ھزار دو سور وپیہ ۔ اس اعتبار سے ساڑھے سات من روپے کا مطلب ہوا ۲۷ ھزار روپے ۔ شادیوں کی یہ شاہ خرچی زیادہ تر مہاجنوں سے سودی قرض لے کر ہوتی ہے جس پردہ کم وبیش ۵ روپے فی صد ماہانہ سود لیتے ہیں۔ گویا ایک ہزار پر پچاس روپے ماہانہ سود جو سال میں چھ سو ہوجاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب خرچ کے لیے روپیہ نہیں ہوتا تو قرض مع سود کی ادائیگی کے لیے کہاں سے آئے گا ۔ چنانچہ ان سودی قرضوں کے نتیجے میں میو قوم اپنی زمینوں کو مہاجنوں کے حوالے کر رہی ہے ۔ یہ عمل بہت تیزی سے جاری ہے اور یہی حال رہا تو مستقبل میں وہ لوگ بے زمین کہے جانے لگیں گے جو آج سب سے زیادہ زمینوں کا مالک ہونے کی وجہ سے " زمین دار کہے جاتے ہیں ۔ اس کے بعد قصبہ بیواں ( ضلع گوڑ گاؤں ) تھا۔ راستہ میں ایک عجیب و غریب رینگتی ہوئی چیز نظر آئی ۔ جس کو یہاں کی زبان میں بیل گاڑی کہتے ہیں ۔ ایک عجیب انخلقت ڈھانچہ کے آگے دو بیل بندھے ہوئے تھے اور اس کے اوپر دو میواتی اپنے روایتی حلیہ میں دکھائی دیتے تھے ۔ "کیا ہمیں اپنی گاڑی میں بھٹا ؤگے ، میں نے گاڑی والے سے پوچھا اور اس نے بہت خوشی سے سب سے بہتر جگہ میرے لیے خالی کردی۔ میں سائیکل سے اتر کر گاڑی میں بیٹھ گیا تاکہ زیادہ قریب سے اس عجیب الخلقت چیز کو سمجھ سکوں جو اس علاقہ میں بیک وقت انسان سے لے کر بھینس تک تمام چیزوں کی نقل وحمل کا واحد ذریعہ ہے ۔ " آپ کا نام کیا ہے ۔ " میں نے گاڑی پر بیٹھتے ہی پوچھا ۔ " نصیب خاں " " آپ لوگ کتنے بھائی ہیں " " پانچ " " پانچوں بھائی کیا کرتے ہیں " " سب کھیتی کرتے ہیں " " کوئی دکان داری نہیں کرتا " " نہیں "

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader