Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

"کیوں ،" "تعلیم نہیں ،" "کیا میو لوگوں کو تعلیم کا شوق نہیں ،" "نہیں جی ۔ ان لوگوں کو تو صرف ہل چلانا اور دھوپ اور گرمی میں محنت کرنا اچھا لگتا ہے ۔" نصیب خاں کے اس جواب سے میری سمجھ میں آیا کہ میواتی لوگ کیوں صرف قدیم طرز کی کھیتی باڑی ہی سے شوق رکھتے ہیں ۔ غالباً ان کی صحرائی طبیعت اور بدوی مزاج کو کسی اور کام سے مناسبت نہیں ۔ اب ہم ہیوان پہونچ چکے تھے ۔ یہ ایک بڑا قصبہ ہے جو پوراکا پوراونچے ٹیلے پر آباد ہے ، دور سے اس کی بلندی پر پھیلی ہوئی عمارتیں درختوں کے جھنڈ کے ساتھ بہت اچھی معلوم ہورہی تھیں ۔ مگر جب ہم قصبہ کے اندر داخل ہوئے تو وہی تکلیف دہ منظر یہاں بھی تھا جو تمام قدیم آبادیوں میں نظر آتا ہے ۔ مکانات جنہیں انسانی بھٹ کہنا زیادہ صحیح ہوگا اس طرح بے ترتیب جگہ جگہ کھڑے ہوئے تھے ، جیسے کسی چٹان پر پتھروں کے تودے منتشر پڑے ہوئے ہوں ۔ چند قدم بھی مشکل سے کوئی سیدھی سڑک ملتی ہے ۔ یہی قصبہ اگر نشانات قائم کر کے سیدھے راستوں پر منظم نقشہ کے مطابق بنایا گیا ہوتا تو وہ اس علاقہ کا ایک قابل سیاحت مقام ہوتا ، مگر موجودہ حالات میں وہ صرف بے ترتیب مکانات کا ڈھیر ہے جس سے گزرتے ہوئے اکتاہٹ کے سوا اور کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ ۲۸ مئی کو ۱۰ بجے ہم قصبہ پہاڑی پہونچے ۔ یہاں قصبہ کے باہر سڑک کے بالکل کنارے درگاہ صاحب خاں پیر کی قدیم عمارت ہے جو تین سو برس پہلے تعمیر ہوئی تھی ۔ میں نے سن تعمیر معلوم کرنے کی کوشش کی ۔ معلوم ہوا کہ گیٹ کے اوپر ایک کتبہ ہے چنانچہ وہاں ڈرم کھڑا کر کے میں اس پر چڑھا اور کتبہ پڑھنے کی کوشش کی ۔ جدوجہد کے بعد میں اس کو پڑھنے میں کامیاب ہوگیا ۔ تو معلوم ہوا کہ اس پر خط شکست میں صرف یہ الفاظ کندہ ہیں : بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page