Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

قدیم وضع کی ایک مسجد ہے اس سے متصل ایک چھتری نما عمارت کے نیچے مزید اور کچھ فاصلہ پر اونچا سائیگیٹ جس کو مسجد اور مزار سے ملانے والی صرف وہ دیواریں ہیں جو حادثات زمانہ کی شکار ہو کر زمین بوس ہو رہی ہیں ۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں مدرسہ رحیمیہ واقع ہے۔ جس کے صدر مدرس مولانا سراج الدین صاحب ہیں۔ یہ پورا مجموعہ جس کو عمارت کے بجائے کھنڈر کہنا صحیح ہوگا ۔ اس کے اندر تہمد اور کرتے میں ملبوس بچے اور بڑے اس طرح چلتے پھرتے نظر آئیں گے جیسے وہ زمانہ کو سیکڑوں برس پہلے کی حالت پر ٹھہرانے کی کوشش کر رہے ہوں ، مگر در و دیوار اس کے متحمل نہ ہوتے ہوں۔ مولانا رحیم شاہ صاحب (مقیم دہلی) کی خصوصی توجہ سے ایک طرف درس گاہ کی نئی عمارت بنائی گئی ہے جس پر تقریباً ۱۵ ہزار روپے کی لاگت آئی ہے ۔ ظہر کی نماز کے لیے مسجد میں داخل ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ چھوٹی سی مسجد جو "مسجد" بننے کے لیے بھی ناکافی ہے ، وہ بیک وقت عبادت گاہ بھی ہے اور اسی کے ساتھ اقامت گاہ سے لے کر پانی کے مشکے رکھنے تک کی جگہ بھی۔ اس درس گاہ سے متعلق بارہ بیگیہ زمین ہے مگر وہ اس حال میں پڑی ہوئی ہے کہ اس کی حد بندی تک نہیں ہوئی ۔ اصل عمارت کا حال بھی یہ ہے کہ شمال و جنوب دونوں طرف کی دیواریں گر گئی ہیں اور مدرسہ کا ہر سامان غیر محفوظ حالت میں اس کے اندر پڑا رہتا ہے ۔ یہاں دینی مدرسہ کا یہ حال ہے اور اس کے گرد میوات قوم تقریبات اور شادیوں میں اپنی گاڑھی کمائی کے لاکھوں کروڑوں روپے غیر اقوام کی جیبوں میں پہنچارہی ہے ۔ پہاڑی سے گلپاڑہ کے لیے جاتے ہوئے ایک منظر میرے لیے بڑا عجیب ثابت ہوا۔ ایک میو اور ایک میونی سڑک کے کنارے چلے جا رہے تھے ۔ میو کی بغل میں چھوٹا سا بچہ تھا اور سر پر ایک چھوٹا سا کھٹولا۔ (جس کو یہاں کی اصطلاح میں پیٹر کہتے ہیں) دوسری طرف میونی کا حال یہ تھا کہ وہ ایک بڑا بکس اور اس کے اوپر بھری ہوئی بوری سر پر رکھے اس کے بوجھ کے نیچے دبی جا رہی تھی ۔ مرد کے چہرہ پر خفیف سی شرمندگی کے آثار بھی نہیں تھے ۔ میں نے ایک صاحب سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو اس نے بتایا کہ یہ تو معمولی بات ہے ۔ اگر آپ ان کو قریب سے دیکھیں تو اس سے زیادہ بے حسی کے مناظر دیکھیں گے ۔ میوات کی روایات میں یہ بھی ہے کہ یہاں صنف نازک کو صنف کرخت سے بھی زیادہ کام کرنے پڑتے ہیں۔ بس کے انجن میں کوئی خرابی آگئی تھی جس کی وجہ سے ڈرائیور نے اس کو روک کر بنانا شروع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page