دوسرا سفر
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا ایک میو مسافر بولا : " خواہ مخواہ گاڑی روک دی " اس کے نزدیک انجن کی خرابی کے کوئی معنی نہیں تھے ۔ کیونکہ " جب ہماری گاڑی رکتی ہے تو ہم لاٹھی سے اس کو چلا لیتے ہیں " کنڈکٹر کو اس کی باتوں پر ہنسی آگئی ، اس نے کہا کہ میو لوگ تو ایسے ہیں کہ کل ایک شخص نے ہم سے گلپاڑہ سے نگر کا کرایہ پوچھا ، ہم نے کہا ۵۲ ، پیسے تو وہ بگڑ گیا ، اس نے گالی دے کر کہا " فلاں گاڑی والا تو بارہ آنے میں لے جاتا ہے اور تم ۵۲ ، پیسے مانگ رہے ہو " یہاں غیر مسلموں کی نظر میں میو قوم ایک بیوقوف قوم کی حیثیت سے ضرب المثل ہے ۔ وہ اس درجہ انہیں معذور سمجھتے ہیں کہ ان کی اس طرح کی باتوں پر بگڑنے کے بجائے ہنستے ہیں ۔ ۲۸ مئی کی شام کو ۵۴۵ بچے ہم گلپاڑہ (ضلع بهرت پور) پہونچے اور یہاں رات سے لے کر اگلے دن تک قیام کیا گلپاڑہ میں بازار کے پچھم کی طرف ایک کھلے میدان میں تین میو خاندان آباد ہیں اور یہیں ایک چھوٹا سا مدرسہ اسلامیہ بھی ہے جس کو ۱۹۵۶ء میں قائم کیا گیا تھا ۔ آج کل صوفی نور محمد صاحب اس کو سنبھلے ہوئے ہیں طلبا ر کی تعداد تقریباً پچاس ہے ۔ حاجی مل خاں یہاں کی خاص شخصیت ہیں جو مولانا الیاس صاحب کے زمانے سے تبلیغ سے وابستہ رہے ہیں بیسیوں بار نظام الدین جا چکے ہیں اور چلہ بھی دیا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ مولانا الیاس صاحب کی کچھ بات بتائیے ۔ مگر اب انہیں کوئی بات یاد نہیں تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بارہ برس کی عمر میں انہیں دیکھا تھا ۔ " آپ کی عمر کیا ہے " میں نے دریافت کیا " یہی جی باون برس ہوگی " یہ جواب سن کر مجھے تعجب ہوا ، کیوں کہ ان کے بال مکمل طور پر سفید ہو چکے ہیں اور بڑھاپے کے آثار شدت سے نمایاں ہیں ۔ میرا اندازہ تھا کہ ان کی عمر غالباً ۶۵ برس ہوگی ۔ معلوم ہوا کہ حوادث نے انہیں قبل از وقت بوڑھا کر دیا ہے ۱۹۴۷ء کے ہنگامہ میں انہیں گھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader