دوسرا سفر
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ وہ ڈیڑھ برس تک دوسری جگہ پڑے رہے ۔ ۱۹۴۷ء میں گھاٹیرہ میں ایک کا نفرنس ہوئی جس میں گاندھی جی کو بلا کر شریک کیا گیا تھا۔ اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے گاندھی جی نے کہا تھا : " میو قوم ہندوستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے “ اس کے بعد فضا بدلی۔ مولانا حافظ الرحمن نے پنڈت نہرو سے کوشش کر کے سر کلر جاری کر لیا اور وہ پٹواریوں کے ذریعہ ایک ایک گاؤں میں پہونچایا گیا کہ تمام لوگوں کو دوبارہ اپنے مکان اور اپنی زمینوں پر بسایا جائے ۔ اس کے بعد حاجی مل خاں صاحب دوسرے بے شمار لوگوں کی طرح دوبارہ اپنے گھر اور اپنی زمین پر واپس آئے۔ یہاں میں نے میو خاندان کے شب و روز کو قریب سے دیکھا۔ صبح سویرے چکی کی آواز کے ساتھ ان کی سرگرمیاں شروع ہو جاتی ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ گھر کا پسا ہوا آٹا زیادہ اچھا ہوتا ہے اس کے بعد شام کو آخری بار بیل کو کھلانے تک ان کے مرد، عورت، بچے سب کاموں میں مشغول رہتے ہیں ۔ میں نے ایک میونی کو دیکھا وہ کھیت سے چلی آرہی تھی ۔ ایک ہاتھ سے بغل کے بچے کو سنبھالے ہوئے تھی اور دوسرے ہاتھ سے سر کا ٹوکرا پکڑے ہوئے تھی ۔ اسی طرح تمام عورتیں دن بھر اندر اور باہر کے کاموں میں مشغول رہتی ہیں ۔ دوسری طرف ایک نوجوان میو گول لکڑی کی بڑی سی موگری لے کر موج کو کوٹ کر اس کا ریشہ نکال رہا تھا۔ میں نے سوچا اگر وہ کسی چپٹی لکڑی سے کوٹتا تو زیادہ چوٹ پڑتی اور نصف محنت سے کام ہو جاتا ۔ مگر میو قوم زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں سمجھتی، وہ اندھا دھند محنت کرنا جانتی ہے ، خواہ اس کے قریب ہی کم محنت سے وہی نتیجہ حاصل کرنے کے مواقع کیوں نہ موجود ہوں ۔ حاجی مل خاں صاحب ایک سنجیدہ اور سمجھ دار آدمی ہیں خیر خیرات میں آگے رہتے ہیں دین کی خدمت کرنا ان کا مشغلہ ہے ۔ ان کے پانچ لڑکے ہیں اور سب کے سب کھیتی باڑی میں لگے رہتے ہیں ۔ میں نے ان سے پوچھا " میو لوگ تجارت کیوں نہیں کرتے “ " ای ہوئے علم شوپیہ سو “ انھوں نے جواب دیا ۔ یعنی تجارت وہ کام ہے جو علم اور پیسہ سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader