Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 39

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہے ۔ اور میو کے پاس نہ علم ہے نہ پیسہ ۔ میو قوم کی ہمت اور جفا کشی کا اندازہ مجھے ایک ذاتی واقعہ سے ہوا۔ نگینہ سے ہمیں بدلیڈ ہوتے ہوئے پہاڑی جانا تھا اور وہاں سے گلا پاڑہ ہوتے ہوئے اور روانہ ہونا ہوتا ۔ نگینہ میں ایک مولوی صاحب “ نے ذمہ داری لی کہ وہ ہماری ایچی ۲۸ رمئی کی صبح کو پہاڑی میں دے دیں گے کیوں کہ وہ اسی طرف جارہے ہیں۔ ہم پہاڑی پہو نچنے تو یہاں کہیں ان کا پتہ نہ رہتا۔ اس کے بعد ہم گلا پاڑہ چلے گئے ۔ گلا پاڑہ میں حاجی مل خاں صاحب کے صاحبزادے ظہور الدین (۲۶ سال) کو یہ خدمت سپر د کی گئی کہ وہ بیواں (مولوی صاحب موصوف کے وطن) جاکر معلوم کریں کہ کیا قصہ ہوا۔ ظہور الدین صاحب بیواں گیے جو گلا پاڑہ سے ۱۶ میل کے فاصلے پر واقع ہے ۔ بیواں میں معلوم ہوا کہ مولوی صاحب ابھی گھر نہیں پہونچے ہیں۔ ظہور الدین صاحب کی ذمہ داری بظاہر یہاں ختم ہوگئی تھی۔ وہ واپس آکر کہہ دیتے کہ مولوی صاحب نہیں ملے ۔ مگر ظہور الدین نے مزید پتہ لگایا کہ مولوی صاحب کہاں رک گیے ہیں، معلوم ہوا کہ وہ کسی شادی کے سلسلہ میں فیروز پور جھہر کہ ٹھہر گیے ہیں۔ فیروز پور بیواں سے ۸ ۔ ۹ میل کے فاصلے پر ہے۔ رات کے وقت وہ سائیکل سے فیروز پور پہونچے، وہاں ڈھونڈ کر انھیں برآمد کیا ، اور ان سے سامان لے کر اگلی صبح کو سائیکل سے گلا پاڑہ آئے اور سامان ہمارے حوالہ کیا ۔ گلا پاڑہ میں ظہر کی نماز ادا کرنے کے بعد ہم سڑک پر پہونچنے تاکہ الور کے لیے بس پکڑ سکیں۔ ایک بس آئی ۔ رکی تو معلوم ہوا کہ یہ مخصوص گاڑی ہے جس میں ایک ہندو بارات سوار ہے ۔ بارات کے لوگ عام طور پر مسافروں سے بات بھی نہیں کرتے ۔ مگر اس نے ہمارے اشارے پر بس روکی اور ہم کو سوار کر کے نگر تک پہونچایا ۔ نگر میں ہم نے کچھ وقت یہاں کے مدرسے میں گزارا اور پھر ۲۹ مئی کی شام کو الور کے لیے روانہ ہوئے ۔ الور میں ۳۰ مئی کی صبح کو ہم ماسٹر امر سنگھ سے ملاقات کے لیے نکلے ، اتفاق سے وہ راستہ ہی میں مل گیے۔ میں نے کہا ، آپ شاید کسی کام سے جا رہے تھے تو آپ اپنا کام کر لیں ، پھر ملاقات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page