Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 40

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوگی۔ انھوں نے کہا ہمارے یہاں ایک مثل ہے ”کام چھوڑے کام ہوتا ہے“، یعنی اگر ایک کام کرنا ہے تو اس کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑے گا۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ آدمی بیک وقت سارے کام کر ڈالے ۔ ان کی گفتگو بڑی معلوماتی ہوتی ہے، خاص طور پر تاریخ سے انھیں کافی واقفیت ہے۔ انھوں نے بتایا کہ مغل دور میں میوات کا الگ صوبہ تھا اور اس کے الگ صوبیدار ہوتے تھے انھوں نے بہت سے واقعات سنائے اور کہا کہ ” مغل دور ایڈ منسٹریٹو پوائنٹ آف ویو سے اور حبتا کی آپ لفٹ کے اعتبار سے بہترین دور تھا۔ دماغ سے پارشیلیٹی کو نکال کر دیکھا جائے تو اس حقیقت کو سمجھنے میں کوئی دقت نہیں ہوسکتی “ انھوں نے کہا کہ ریاست الور میں مہاراجہ جے سنگھ نے مرزا غالب کے باپ دولے خاں کو اپنی فوج کا کمانڈر انچیف بنایا تھا ۔ اسی طرح مغل فوجوں میں کثرت سے راجپوت کمانڈر ہوا کرتے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ ریاست میں یہ فضا ہمیشہ موجود رہتی، راجپوت جب کسی بستی میں جاتے تو وہ میوُ مسلمان خاندان میں قیام کرتے تھے ۔ میو بورڈنگ قائم کرنے میں جن لوگوں نے حصہ لیا، ان میں ایک خاص شخص کرنل مادھو سنگھ جی بھاٹی رانا وڈھ) تھے ۔ انھوں نے مہاراجہ تیج سنگھ (الور) سے کہہ کر اس کے لیے زمین دلوائی اور اپنی پلٹن سے چندہ دلوایا ۔ اس گفتگو کے وقت کرنل صاحب کے لڑکے کپتان دجے سنگھ بھی موجود تھے ۔ انھوں نے کہا : ” پہلے ہندو مسلمان کا کوئی سوال نہیں تھا ۔ اس قسم کے ڈسٹنکشن تو اب پیدا ہوئے ہیں “ ماسٹر امر سنگھ نے میو قوم کی بہت تعریف کی۔ میں نے پوچھا ، لوگ کہتے ہیں کہ میو بیوقوف ہوتے ہیں کیا یہ صحیح ہے “ انھوں نے جواب دیا : ”سیدھے آدمی کو لوگ بے وقوف کہتے ہیں“ میوات کے ہیڈروں کا ذکر آیا تو ماسٹر امر سنگھ نے کہا کہ اس علاقہ میں سب سے پہلا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page