Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

چوہدری جس نے لیڈر کا مقام حاصل کیا وہ چوہدری یسین خاں (۱۸۹۴-۱۹۶۰) ہے ان کی تعلیم بی۔ اے تک ہے۔ ۱۹۳۶ء میں پنجاب اسمبلی کے لیے ایم، ایل، اے منتخب ہوئے تقسیم کے بعد اس علاقہ میں فساد ہوا اور مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے تو انھوں نے مسلمانوں کو دوبارہ جمانے میں خصوصی پارٹ ادا کیا۔ انھوں نے قوم کی کافی خدمت کی۔ ان کے صاحبزادے چوہدری طیب حسین خاں کی بھی ماسٹر صاحب نے بہت تعریف کی تیسرے الیکشن کے بعد طیب حسین خاں پنجاب میں محکمہ صحت کے ڈپٹی وزیر مقرر ہوئے۔ ماسٹر صاحب نے ان کی بہادری ، ان کے کیر کٹر اور ان کی انسانیت دوستی کی بہت تعریف کی۔ انھوں نے اس کو ایک المیہ بتایا کہ پہلے الیکشن میں چوہدری طیب حسین خاں کو ناکامی ہو گئی۔ انتخابی نتیجہ کی وجہ ایک کے مقابلہ میں دوسرے کی لیاقت نہیں بھتی بلکہ گوت پال کا نعرہ تھا۔ چوہدری طیب حسین خاں اس الیکشن میں فیروز پور جھیر کہ کے حلقہ سے کھڑے ہوئے تھے، وہ چوں کہ اس علاقہ کے مقامی باشندے نہیں تھے اور اس کے برعکس ان کے مقابل میں جو صاحب تھے وہ مقامی باشندوں کے ہم قبیلہ یعنی چھڑک لویت تھے، اس لیے اول الذکر ناکام اور ثانی الذکر کامیاب ہو گئے۔ حالاں کہ صلاحیت اور خدمت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی نسبت نہیں رکھتی ۔" انھوں نے کہا : الورسے دلی جانے والی ٹرین پر بیٹھیں تو پچھیم کی طرف ارولی پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا الور شہر نظر آئے گا اور پورب کی طرف پہلے اور دوسرے سگنل کے درمیان وہ مسجد دکھائی دے گی جو الور کی ایک سو گیارہ مسجدوں کے خاتمہ کے بعد شہر کی واحد مسجد ہے جو دوبارہ تعمیر کی جا رہی ہے اور جہاں مسلمان نظر آتے ہیں ۔ دو مہینے پہلے اپریل ۱۹۶۹ء میں جب میں پہلی بار انور آیا تھا تو میں نے دیکھا تھا کہ مکمل طور پر برباد شدہ مسجد کی قدیم بنیادوں پر دوبارہ تعمیر شروع کی گئی ہے۔ مگر اس کو از سر نو مسجد کی شکل دینے کی کوشش نصف دیواروں تک پہونچ کر رک گئی ہے۔ اس وقت میرے سامنے ایک پر حسرت نقشہ تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ الور میں ملت اسلام نے اپنی بربادی کو دوبارہ ایک فراموش شدہ واقعہ بنانے کی کوشش کی تھی مگر وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page