Urdu book · میوات کا سفر

دوسرا سفر

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں ہوئی ۔ دو مہینے کے بعد ۔ ۳ مئی کو میرا دوسرا سفر ہوا تو نقشہ کسی قدر مختلف نظر آیا ۔ اب دیواروں کو مکمل کر کے اس پر چھت ڈالی جاچکی تھی اور کام جاری تھا ۔ معلوم ہوا کہ پہلی بار میں نے روداد سفر میں الور کی مسجد کا جو ذکر کیا تھا اس سے متاثر ہو کر ڈاکٹر موثق الدین صاحب (بمبئی) نے ایک ہزار روپے روانہ فرمائے ہیں جن کو پا کر یہاں کے لوگوں کی مزید ہمت بندھی اور انھوں نے پھر سے کام شروع کر دیا ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو جزائے خیر دے مگر جو کام پیش نظر ہے اس کے اعتبار سے ابھی بہت سے ” ڈاکٹر موثق الدین “ کی ضرورت ہے ۔ ۵۰ فٹ لمبی اور ۲۰ فٹ چوڑی مسجد پر پتھر کی چھت ڈالنے کے لیے چھ عدد لوہے کے گرڈر استعمال کیے گئے ہیں صرف انہی کی قیمت تقریباً ایک ہزار روپیہ ہو جاتی ہے ۔ مسجد کے تحفظ اور الور میں دوبارہ اسلام کو زندہ کرنے کے لیے اس کے کچھ اور تقاضنے بھی ہیں ۔ مثلاً یہاں مدرسہ تعمیر کیا جائے ۔ مسجد کی پوری زمین پر باؤنڈری گھیر دی جائے ۔ یہاں امام، مؤذن، طلبہ اور اساتذہ کے ٹھہرانے کا انتظام ہو تاکہ یہ جگہ ” قبضہ “ میں رہے اور یہاں ایسی سرگرمیاں شروع ہو سکیں ، جس سے یہ جگہ الور میں ایک قسم کا اسلامی مرکز بن جائے ، جہاں اسلام کا لٹا ہوا قافلہ دوبارہ اپنے کو منظم کر کے سفر شروع کرنے کے قابل ہو سکے ۔ محض ایک سفر کی روداد پڑھ کر ایک مسلمان ڈاکٹر کا ہزار روپیہ الور کی مسجد کے لیے بھیج دینا میرے نزدیک بڑی خوش گوار علامت ہے ۔ اگر ہم ملت کی برباد شدہ عمارت کو دوبارہ اٹھانا چاہتے ہیں تو ہم کو اپنے اندر یہی فضا پیدا کرنی ہوگی کہ جب ضرورت سامنے لائی جائے تو لوگ خود سے اس کے لیے دوڑ پڑیں ۔ اس کا انتظار نہ کریں کہ رسیدیں چھپوا کر چندہ مانگنے والے ان کے پاس پہنچیں اسی وقت وہ دینے کی زحمت گوارا کریں گے ۔ یاد رکھیے آج اس ملک میں ملت کے جو مسائل ہیں وہ آپ میں سے ہر شخص کے ذاتی مسائل ہیں۔ اگر ملت مضبوط ہوتی ہے تو آپ بھی یہاں جینے کی زمین پاسکتے ہیں ۔ اور اگر ملت کمزور ہوئی تو انفرادی خیمے بھی بچ نہیں سکتے ، خواہ ان کی طنابوں کو کتنا ہی مضبوط بنانے کی کوشش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page