دوسرا سفر
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
کی گئی ہو۔ ۳ مئی ۱۹۶۹ کو الور کی جامع مسجد میں جمیعتہ کے اجتماع کے موقع پر خطاب کا موقع ملا۔ میں نے کہا کہ الور میں اور پورے میوات میں یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ میو قوم میں کافی دینداری پیدا ہو گئی ہے۔ چہروں پر داڑھیاں نظر آتی ہیں۔ ہاتھوں میں تسبیح دکھائی دیتی ہے۔ نمازی ہونے کا نشان ان کی پیشانیوں پر ثبت ہے۔ وہ دینی جذبے کے تحت چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ یہ سب باتیں بڑی خوشی کی ہیں ، مگر اس کے ساتھ ایک اور چیز کی ضرورت ہے اور وہ علم ہے۔ علم نہ ہو تو آدمی نہ دین کو ٹھیک طور پر سمجھ سکتا ہے اور نہ دنیا کو۔ میں نے کہا کہ آپ کو دینداری کے ساتھ علم کو بھی جمع کرنا ہے۔ اور علم دو ہوتے ہیں۔ ایک دین کا علم اور دوسرے دنیا کا علم ۔ میں نے کہا کہ الور میں دوبارہ آیا ہوں اور یہاں کے حالات کے جائزہ کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ آپ کو دو کام کرنا ضروری ہیں ۔ ایک یہ کہ اس مسجد کو جہاں آپ اس وقت نماز کے لیے جمع ہوئے ہیں، آباد کریں۔ آپ کو معلوم ہے کہ تقسیم کے بعد یہ مسجد کھنڈر ہو گئی تھی۔ برسوں تک یہاں کوئی اذان دینے والا بھی نہ تھا ۔ اس کے بعد مسلمان یہاں آئے اور چھپر ڈال کر یہاں نماز قائم کی گئی۔ آج آپ چھت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں۔ یہ بڑی خوش آئند علامت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ملت کھنڈر کے اوپر از سر نو تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ مسجد کی تکمیل کے ساتھ آپ کو یہاں ایک دینی مدرسہ بھی بنانا ہے ، تاکہ یہ جگہ الور میں اسلامی مرکز کی حیثیت اختیار کر سکے ۔ دوسرا کام جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں وہ میو بورڈنگ کو زندہ کرنا ہے یہاں ۲۸ کمرے ہیں جن میں ایک سو طلبہ مفت رہ سکتے ہیں۔ مگر تعلیمی بے شعوری کا یہ عالم ہے کہ بورڈنگ ہاؤس خالی پڑا ہوا ہے ۔ لڑکے نہیں ملتے جو یہاں رہ کر تعلیم جاری رکھ سکیں ۔ آپ کو کوشش کرنی ہے کہ یہ بورڈنگ آباد ہو۔ میو نوجوان یہاں کی رہائشی سہولت سے فائدہ اٹھا کر اسکول اور کالج کی تعلیم حاصل کریں تاکہ علوم دنیا میں آپ دوسروں کے ہمسر ہو سکیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader