Urdu book · میوات کا سفر

تیسرا سفر

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

تیسرا سفر میرا یہ سفر اصلاً الور کے لئے تھا۔ مگر رفیق سفر مولا نا عبد الرحیم بڈیوی کے مشورہ سے یہ طے ہوا کہ راستہ میں چند جگہوں پر اتر اجائے۔ ہماری پہلی منزل گوڑ گاؤں تھی۔ یکم اگست ۱۹۴۹ء کی صبح کو جب کہ رکشا مجھے اور مولا نا عبد الرحیم صاحب کو چودھری محمد حسین صاحب کی قیام گاہ کی طرف لے جا رہا تھا۔ ہماری باتوں کو سن کر رکھنے والا اچانک بولا ـــــ ’’ چودھری حسین ..... ان کا حال تو یہ ہے کہ رات کو اٹھ کر تنہا جنگل چلے جاتے ہیں اور بھگوان کی دھیان پر ایسی ہے کہ شیر ان کے تلوے چاہتا ہے۔‘‘ مگر یہی شخص جو کبھی بیوات کا شیر تھا عمر نے اس کو نڈھال کر کے بستر پر ڈال دیا ہے۔ ان کی نقاہت اور نحیف آواز کے ساتھ ان کی گفتگو کو دیکھ کر میں نے پوچھا ’’ آپ کی عمر کیا ہوگی ‘‘ چودھری صاحب نے اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے یہ فقرہ دہرایا: صورت ہمیں حالت پرس میں نے بہت اصرار کیا کہ وہ اپنے پچھلے زمانہ کے کچھ حالات بتائیں۔ مگر انہوں نے کہا ’’کام سے مطلب ہے نام سے کیا فائدہ‘‘ وہ ہندستان کے مسلمانوں سے مایوس ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کو بیدار کرنے کی کوشش ’’مردہ کو انجکشن لگانا ہے۔‘‘ جمعہ کا دن تھا اس لئے ہمارا خیال تھا کہ نوح میں جمعہ پڑھ کر جمعہ بعد الور کے لئے روانہ ہوں گے۔ نوح الور کے راستہ میں پڑتا ہے۔ مگر جب ہم گوڑ گاؤں سے بس پر بیٹھے تو ڈرائیور اتنا اچھا تھا کہ ہم نے طے کیا کہ اب سیدھے الور جائیں گے۔ اس نے کہا ـــــ ہم آپ کو الور میں جمعہ کی نماز پڑھائیں گے‘‘ اور واقعی انہوں نے الور میں نماز پڑھادی۔ یہ ایک سردار تھے جن کا نام ہے درشن سنگھ پڈھیٹر۔ اپنا نام بتانے کے بعد جب انھوں نے اس کا مخفف ڈی ، ایس ، پی (D.S.P) بتایا تو مسافر ہنس پڑے۔ ” وہ تو اپنے آپ بنتا ہے “ سردار جی نے کہا اور لوگ خاموش ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page