Urdu book · میوات کا سفر

تیسرا سفر

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

سردار جی نے کہا " میں ہندو، مسلمان، سکھ سب سے یکساں طریقہ سے ملتا ہوں، یہ کیا کھلا ہے ان باتوں میں " اور مجھے محسوس ہوا کہ سردار جی کے ان الفاظ میں ذرہ برابر مبالغہ نہیں ہے ۔ کیوں کہ میں نے دیکھا کہ مسافروں کے ساتھ ان کا سلوک عین ان کے بیان کے مطابق تھا۔ ایک غریب داڑھی والے مسلمان سے بھی ان کا سلوک ویسا ہی تھا جیسے کسی پتلون پوش غیر مسلم کے ساتھ۔ ایک اسٹیشن پر ایک غریب شخص نے ان سے سگریٹ مانگا " تمہارے لئے خون بھی حاضر ہے ۔ کیا چیز ہے سگریٹ ! " یہ کہا اور فوراً سگریٹ پیش کر دی۔ ان کی اس خوش خلقی کا مظاہرہ پورے سفر میں ہوتا رہا۔ سردار جی کو ڈرائیوری پر مکمل قدرت ہے۔ پورے راستہ پر نہایت شان کے ساتھ گاڑی لے آئے اور تین گھنٹے سے بھی کم میں ٹھیک ایک بجے گاڑی الور پہنچادی۔ جمعہ کی نماز، ہم نے الور میں پڑھی۔ خطبہ سے پہلے مولانا ابراہیم صاحب کی فرمائش پر میں نے ایک مختصر سی تقریر کی۔ اگر ۱۹۴۱ء کے زمانہ میں کوئی شخص یہاں آتا تو وہ دیکھتا کہ قدیم الور کے مشرقی جانب ریلوے لائن کے ایک طرف میدان ہے جو پہاڑ کی اونچی دیوار کے سایہ میں دور تک چلا گیا ہے اور ریلوے لائن کی دوسری جانب ایک برباد شدہ مسجد ہے جو کھنڈروں کی شکل میں اپنے وارثوں اور سرپرستوں کی خاموش تلاش میں پڑی ہوئی ہے۔ اگر آپ آج الور کے اس حصہ کا مشاہدہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ ۲۰ سال گزرنے کے بعد بھی مسجد کو تو اس کے " سر پرست " نہ مل سکے۔ مگر دوسری طرف عمارتوں کی قطاریں اور دھواں اڑاتی ہوئی چمنی بتا رہی ہے کہ اس کو ایسے سرپرست مل گئے جنہوں نے اس خالی زمین کی فریاد کو سنا اور اسے مکمل طور پر آباد کر دیا۔ (اب یہ مسجد مکمل ہو گئی ہے) الور میں کچھ مسلمان بیٹھے ہوئے دھولی دوب (ضلع الور) کی ایک درگاہ کا ماتم کر رہے تھے۔ "دس لاکھ کی جائداد ہے دس لاکھ کی۔۔۔۔ یہ مسلمانوں کی ایک زیر دست ملکیت تھی۔ آج غیر مسلموں نے اس پر قبضہ کر رکھا ہے " مجھے شوق ہوا کہ میں اس مرثیہ کا موضوع اپنی آنکھ سے دیکھوں ۔ شام کے وقت ہم دھولی دوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page