تیسرا سفر
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچے۔ یہ پہاڑ کے دامن میں بسا ہوا ایک گاؤں ہے جو اپنی خوش وضع عمارتوں کے ساتھ خاموش اعلان کر رہا ہے کہ یہاں کے کسان خوش حال ہیں۔ تقریباً ۴۰ گھر مسلمان ہیں اور ۲۰ - ۲۵ گھر ہندو ہیں جو زیادہ تر ہریجن اور بڑھئی وغیرہ ہیں۔ بستی کے باہر قلعہ نما فصیل کے ساتھ وہ عظیم عمارت ہے جس کو دیکھنے کے لیے ہم یہاں آئے تھے۔ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ " لال خاں " کا مقبرہ ہے۔ مگر عملاً آج اس پر ہندوؤں کا قبضہ ہے اور انہوں نے اس پر مہا منالال داس جی" کی سمادھی کا بورڈ لگا رکھا ہے۔ اگر چہ ہندو صاحبان کے لیے یہ بات بہت عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ وہ اپنے بزرگ کی قبر بنا کر اس کو درگاہ کی شکل دیں۔ ہم اندر داخل ہوئے تو ایک نہایت خوش نما منظر سامنے تھا۔ قدیم وضع کی عمارت جو جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی ، اس کی مرمت کر کے بہترین بنا دیا گیا ہے۔ موزیک کا فرش اور پوری عمارت کی سفیدی مزید رونق پیدا کر رہی ہے۔ اس درگاہ کے ساتھ کافی زمین بھی ہے۔ پورا رقبہ آٹھ بیگہ کا ہے۔ تقسیم سے پہلے اور اس کے فورا بعد تک یہ ویران قبرستان کی حیثیت رکھتی تھی۔ مگر آج وہاں چمن بنا ہوا ہے۔ چاروں طرف لیچوں اور پپیتے کے درخت لگا دیئے گئے ہیں۔ آلو کی کاشت بھی ہوتی ہے۔ ایک طرف بجلی لاکر پمپ بھی لگا دیا گیا ہے جس سے سینچائی ہوتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ موجودہ سال میں انہوں نے چودہ ہزار کا پپیتا فروخت کیا ہے اور پمپ کے ذریعہ دوسروں کی سینچائی کرکے موجودہ فصل میں پانچ ہزار روپے کمائے ہیں۔ اس ہرے بھرے باغ میں موروں کی بڑی تعداد بے خبری کے ساتھ ادھر ادھر گھوم رہی تھی جیسے انہیں بے شعور حاصل ہو کہ وہ " قومی پرندہ " قرار دیئے گئے ہیں۔ اور ان کے لئے اس ملک میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ کوئی مور دم اٹھا کر ناچ رہا تھا، کوئی اپنی لمبی خوبصورت دم پھیلائے چہل قدمی کر رہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ صبح کوروزانہ یہاں کے " بابا جی " موروں کو دانہ کھلاتے ہیں۔ اس وقت سارے مور ان کے گرد جمع ہوجاتے ہیں بابا جی ہمارے ساتھ گھوم رہے تھے اور بڑی دل چسپی کے ساتھ ساری چیزیں دکھا رہے تھے۔ میں نے کہا " صبح کے وقت بابا جی موروں کے جھرمٹ میں بڑے سندر لگتے ہوں گے "۔ اور سب لوگ ہنس پڑے ۔ یہاں مجھے اپنا اور پر ابراد ران وطن کا فرق دیکھ کر بڑی عبرت ہوئی۔ انہیں دھولی ددب کی درگاہ ملی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader