تیسرا سفر
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
توانہوں نے اپنے باباجی کو اتنا مالیاتی تعاون دیا کہ آج وہ ایک چمنستان معلوم ہوتا ہے۔ دوسری طرف الور کی مسجد اور مدرسہ اور اس سے ملحق زمین کی تعمیر وانتظام کے لئے فریاد کی جارہی ہے اور چند مسلمانوں کے سوا کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس کے منتظمین کو وہ مالیاتی سہارا دینے کی کوشش کرے جس سے وہ اس اجڑے ہوئے علاقہ کو دوبارہ چمنستان بنا سکیں ۔ اس قسم کے عبرت کے نمونے اس علاقے میں بہت ہیں۔ الور سے چھ میل کے فاصلے پر وہ مقام ہے جس کو ”وجے ساگر “ کہتے ہیں۔ یہ مہاراجہ الور کے مختلف محلات میں سے ایک محل ہے جہاں ان کے ایک صاحبزادے مقیم ہیں۔ ہم محل کے قریب پہنچے تو پتھر کی قلع نما دیوار دور تک پھیلی ہوئی اس کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ ”بڑی زبردست دیوار ہے یہ“ اس کو دیکھ کر مجھے خیال آیا۔ مگر جب ہم اس قلعہ نما فصیل کے برابر والی سڑک پر چل رہے تھے تو ہم نے دیکھا کہ وہ جگہ جگہ سے پھٹی ہوئی ہے۔ اور بعض مقامات پر اس میں بڑے بڑے سوراخ ہوگئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ ملے ہوئے پہاڑ سے ہبوط (Land Slide) کی وجہ سے ہوا ہے جگہ جگہ فصیل کے قریب بڑی بڑی چٹانیں پڑی ہوئی تھیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ کس طرح پتھر اوپر سے گر کر فصیل کی توڑ پھوڑ کرتے رہتے ہیں۔ ” انسان کی ہر تعمیر قدرت کی زد میں ہے “ اس منظر کو دیکھ کر یکایک مجھے خیال ہوا اور میں نے محسوس کیا کہ اس واقعہ میں نصیحت لینے والوں کے لئے بہت بڑی داستان چھپی ہوئی ہے۔ دھولی دوب کے ایک کسان مولوی عبدالرحمن صاحب کے مکان پر ہم پہنچے تو ان کا خوبصورت نو تعمیر مکان جس میں بجلی وغیرہ لگی ہوئی تھی مکمل طور پر بند تھا۔ مولوی عبدالرحمن صاحب ہمارے ساتھ الور سے آئے تھے، مگر کنجی ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے وہ گھر کھول نہ سکتے تھے۔ معلوم ہو کہ ان کی عورتیں کھیت پر گئی ہوئی ہیں۔ عبدالرحمن صاحب کی ساٹھ بیگھہ کی بہت اچھی کھیتی ہے۔ انھوں نے ٹیوب دیل بھی لگا رکھا ہے۔ مگر یہاں کا عام رواج ہے کہ مرد، عورت، بچے سب کام کرتے ہیں، یہاں پر دہ مطلق نہیں ہے۔ عبدالرحمن صاحب کی مشکوٰۃ ، جلالین تک تعلیم نورح میں ہوئی ہے۔ اس کے بعد دورۂ حدیث انھوں نے نظام الدین کے مدرسہ سے کیا ہے۔ وبجے ساگر سے واپسی میں دھولی دوب میں کچھ دیر قیام رہا۔ اب مولوی عبدالرحمن صاحب کا مکان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader