تیسرا سفر
Urdu book, p. 48
By Maulana Wahiduddin Khan
کھل چکا تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے یہیں پڑھی۔ یہاں سے روانگی میں اتنی دیر ہوئی کہ اندھیرا ہو گیا۔ دھولی دوب سے الور تک عمدہ قسم کی پختہ سڑک ہے۔ ہمارے ایک طرف ارو کی پہاڑ کا سلسلہ اس طرح نظر آ رہا تھا جیسے زمین کی پشت پر لمبی کوھان ابھر آئی ہو۔ دوسری طرف کھیت پھیلے ہوئے تھے۔ ماحول بالکل تاریک تھا۔ دور دور دیہاتوں کی روشنیاں اس طرح متفرق طور پر ٹمٹماتی ہوئی نظر آتی تھیں گویا انسان نے گہری تاریکی میں کہیں کہیں امید کے دیے جلا رکھے ہوں۔ کچھ دیر کے بعد قریب کی ریلوے لائن سے ایک پیسنجر ٹرین گزری۔ تاریکی کی وجہ سے اصل ٹرین تو دکھائی نہیں دیتی تھی۔ البتہ ڈبوں کی روشنیاں اس طرح نظر آ رہی تھیں جیسے بہت سی روشنیوں کو جوڑ کر ایک زنجیر بنائی گئی ہو۔ اس علاقہ میں مور بہت ہیں۔ اندھیرا ہوتے ہی خوبصورت پرندوں کی بھاری آوازیں اس طرح فضا میں بلند ہونے لگیں جیسے یہ قدرت کے خلاف احتجاج کر رہے ہوں کہ کیوں اس نے تاریک رات کا پردہ ڈال کر ان کو اپنے خوبصورت پروں کی نمائش سے محروم کر دیا ہے۔ راستہ میں مولوی عبد الرحمن صاحب سے باتیں ہوتی رہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں ایک مدرسہ ہے مگر انہیں استاد نہیں ملتا۔ انھوں نے کہا کہ ہم استاد کو خوراک کے علاوہ ۲۵ روپئے اور ڈیڑھ من اناج ماہوار دیتے ہیں جو اس علاقہ کے عام رواج سے زیادہ ہے۔ پچھلی بار ایک استاد آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں تنہا نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ہم نے چندہ کر کے پندرہ سو روپئے اکٹھا کے اور ان کے لئے مکان بھی بنوا دیا۔ مگر اس کے بعد ان کے ’’خسر صاحب ‘‘ بیمار ہوئے اور ان کے علاج میں انھوں نے یہاں کا کام چھوڑ دیا۔ انھوں نے بتایا کہ کتنے استاد آئے، مگر کوئی ٹکتا نہیں۔ اکثر پیشگی روپیہ اور اناج لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ بعض لوگوں نے یہ کہہ کر روپے لئے تھے کہ ’’تمہارے لئے لسٹنگی لاؤں گا‘‘ اور ’’تمہارے لئے ٹارچ لاؤں گا‘‘ مگر روپیہ لے کر گئے تو آج تک نہیں لوٹے ۔ ’’کیا یہ فارغ عالم ہوتے ہیں‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’نہیں کوئی شومبر تک پڑھا ہوتا ہے، کوئی شرح جامی تک اور زیادہ تر میاں جی ہوتے ہیں۔ ’’جب تک رہتے ہیں کیا وہ پڑھانے کا کام محنت سے کرتے ہیں۔ ’’اجی کس کی محنت‘‘ (کہاں کی محنت) مولوی عبد الرحمن صاحب نے جواب دیا۔ اگست ۱۹۶۹ء کی دوسری تاریخ تھی۔ الور سے دھولی دوب اور وچے ساگر جاتے ہوئے میں نے دیکھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader