چوتھا سفر
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
چوتھا سفر ۱۵ اکتوبر ۱۹۶۹ کی صبح کو میں مولانا عبدالرحیم اور تین دوسرے رفقار کے ہمراہ میوات کے لئے روانہ ہوا۔ بس کا ڈرائیور بڑا زندہ دل نوجوان تھا۔ وہ ہریانہ کی جاٹ برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ میری سیٹ ڈرائیور کے بغل میں بالکل آگے تھی۔ "کیا شاعری لکھ رہے ہو میاں صاحب" مجھ کو مسلم کاغذ میں مشغول دیکھ کر ڈرائیور نے کہا۔ "نہیں میں شاعر نہیں ہوں" میں نے جواب دیا۔ "مگر آپ نے کس طرح سمجھا کہ میں شعر لکھ رہا ہوں؟" "موڈرن سب شاعر ہوتے ہیں" اس نے ہنستے ہوئے کہا۔ "یہ کیسے آپ کو معلوم ہوا؟" "اپنے تو چانس پڑے ہیں" جاٹ ڈرائیور نے کہا اور اس کے بعد بتایا کہ اس سے پہلے وہ ملٹری میں اٹھارویں دستہ میں تھا۔ اس میں ایک اسکو یڈرن مسلمانوں کا تھا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سب مسلمان شاعری کیا کرتے ہیں۔ ڈرائیور نے یہ بات اپنی سادگی میں کہی۔ مگر میں سوچنے لگا کہ ایک جاٹ کی نظر میں مسلمان گویا شاعروں کی قوم ہے۔ ہم نے بھی موجودہ زمانہ میں اپنی کتنی عجیب تصویر دوسروں کی نظر میں بنائی ہے۔ ۹ بجے گاڑی بدلنے کے لئے فیروز پور جھیر کا اترے۔ یہاں تقریباً دو گھنٹے رکنا پڑا۔ فیروز پور میں لگ بھگ پانچ ہزار آبادی ہے۔ مسلمان بہت کم ہیں مشکل سے ۲۰ گھر ہوں گے۔ تقسیم سے پہلے یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اگر چہ یہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی اور اس وقت یہاں کوئی مارکاٹ نہیں ہوئی۔ مگر اطراف کے واقعات سے اتنی دہشت پھیلی کہ بیشتر لوگ بستی چھوڑ کر چلے گئے۔ اس وقت یہابں جو مسلمان ہیں وہ تیلی، رنگریز، فقیر، حجام اور مزدور قسم کے لوگ ہیں۔ آس پاس کے دیہات میں مسلمان کثرت سے آباد ہیں۔ پوری فیروز پور تحصیل میں ۸۰ فی صد مسلمان ہیں۔ اطراف میں چھوٹی بڑی تقریباً دو سو بستیاں ہیں جہاں کے باشندے فیروز پور کے بازار میں خریداری کے لئے آتے ہیں۔ فیروز پور کی تمام بازاری باہمی انھیں مسلمانوں کی بدولت قائم ہے۔ مگر حیرت انگیز بات

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader