چوتھا سفر
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ بازار میں مسلمانوں کی کوئی ایک دوکان بھی نہیں۔ اگر کوئی ہے بھی تو وہ نات بل ذکر۔ محمد الیاس نام کا ایک نوجوان حجامت بنانے کا کام کرتا ہے اور زمین سال سے بازار میں مقیم ہے اس سے میں نے پوچھا ” آخر مسلمان دکان کیوں نہیں کرتے۔“ ” بس جی کوئی کھولت نہیں ہے۔“ اس کا جواب تھا۔ مزید سوال کے جواب میں اس نے کہا۔ ” یہاں کے لوگ تو ایسے ہیں کہ بنیوں سے قرض نکو اکر لے جاتے ہیں اور پھر خوش ہوتے ہیں کہ اس نے چودھری صاحب کوسودی قرض دے دیا۔“ میں ایک مسلمان رنگریز کی دوکان پر گیا۔ بوڑھا بابپ لال کھدر پر کالی چھپائی کمر رہا تھا۔ حالانکہ اس کی عمر اتنی ہو چکی تھی کہ اگر موقع ہو تو وہ صرف یہ پسند کرے گاکہ چار پائی پر لیٹا ہوا بس حقہ پیا رہے۔ چھپائی کا کام ان کو سال میں بس دو مہینے ملتا ہے۔ ان میں بھی وہ مشکل سے سو روپیہ مہینہ کماتے ہیں۔ باقی مہینوں میں زیادہ تر بیکار رہتے ہیں۔ کبھی رنگائی کا کام مل گیا تو مل گیا۔ ” پھر کیسے آپ کام چلاتے ہیں؟“ میں نے رنگریز کے لڑکے سے کہا۔ ” ایسے ہی چل رہے ہیں جی۔“ اس نے بے دلی کے ساتھ جواب دیا۔ اور اس کے بعد اپنے دبے پتلے ہاتھوں سے گھولے ہوئے رنگ کے نیچے لکڑی کے ٹکڑے ڈالنے لگا۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے پر مایوسی کے سوا کسی اور چیز کی تلاش ایک بے سود کوشش ہے۔ گفتگو کے دوران مولوی یوسف صاحب (حسن پور بلونڈا) آگئے۔ یہ زراعت کا کام کرتے ہیں۔ ” ہمارا ۳۵ افراد کا کنبہ ہے اور سب اسی زمیندارہ میں لگے ہوئے ہیں!“ انھوں نے میرے سوال کے جواب میں بتایا۔ ” آپ لوگ کار و بار کیوں نہیں کرتے؟“ ” دوسرے کام میں کامیابی نہ ہو ہم لوگوں کو۔“ انھوں نے میواتی زبان میں جواب دیا۔ ” کیوں “ ” بس ماحول ہی ایسا ہے زمیندارہ کا۔“ میں نے بہت کوشش کی کہ وہ اس کے لئے آمادہ ہو جائیں کہ ۳۵ افراد کے کنبہ سے کم از کم ایک شخص کاروبار کے لئے نکالیں مگر وہ اس کے لئے کسی طرح آمادہ نہ ہوئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader