Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

یہاں مولاتا قمر الدین صاحب ایک خاص شخصیت ہیں۔ یہ مڈل پاس ہیں اور عالم بھی ہیں۔ مزید یہ کہ نہایت سمجھدار اور فعال آدمی ہیں۔ انھوں نے اس علاقہ کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں۔ انھوں نے کہا ”یہاں کا دھند ایسا ہے کہ نثری تو بہت ہے لیکن زمین ہی میں سب لگے رہتے ہیں خواہ وہ زمین ایک بیگھہ ہو یا پانچ بیگھہ یا پچاس بیگھہ۔ نہ کوئی ملازمت ہے، نہ تجارت، نہ دستکاری لوگوں کی آمدنی کا اوسط اتنا کم ہے کہ کسی شاید پانچ روپیہ مہینہ بھی نہیں پڑے گا۔ بہت سے “ نلتو چودھری ”آپ کو بازاروں میں نظر آئیں گے۔ ان کا دھندایہ ہے کہ اپنے کو سرکار رس ظاہر کر کے لوگوں سے پانچ روپیہ دس روپیہ اینٹ لیں۔ اور پھر ہوٹل میں فاتحانہ انداز میں بیٹھ کر چائے پئیں ۔ یہاں سب میں دو پارٹیاں ہیں عوام میں بھی اور خواص میں بھی۔ میو کو دوسروں کی تابعداری منظور ہے مگر اپنی نہیں۔ شادی بیاہ کو فوراً ناک کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ اور جو کمایا ہے اس میں دیا سلائی لگا دیتے ہیں “۔ اس وقت ۸- ۱۰ میو ہمارے کمرے میں جمع ہو گئے تھے۔ میں نے تعلیم کے مسئلہ پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا۔ ”آپ لوگ اپنے بچوں کو پڑھاتے کیوں نہیں؟ ”کیا پڑھائیں۔ ملازمت تو ہم کو ملتی نہیں“ حاضرین میں سے ایک نے کہا۔ ”تعلیم کا مقصد صرف ملازمت نہیں۔ میں نے کہا ”تعلیم یافتہ ہونے کے اور بھی بے شمار فائدے ہیں“ اب انھوں نے دوسری دلیل دی ”بہت سے تو بچوں کو اسکول اس لئے نہیں بھیجتے کہ وہاں بھجن گوا یا جاتا ہے۔ یہ گاؤ، وہ گاؤ، پھر اسکول جاؤ۔ میں نے کہا یہ سب تو صرف ابتدائی درجات میں ہوتا ہے۔ آپ ابتدائی تعلیم کا خود انتظام کر لیں ۔ مولانا قمر الدین صاحب نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہاں اسلامی مدرسے بہت ہیں مگر سب وہی محدود ”دینی تعلیم“ دیتے ہیں۔ دینی تسلیم میں اگر مڈل تک کا نصاب بھی شامل کر لیا جائے تو لڑکے ان خرافات سے پاک رہ کر ابتدائی تعلیم مہندی، حساب وغیرہ کی حاصل کریں۔ اور پھر آگے ھائی اسکول میں داخلہ لے کر پڑھیں “۔ مگر یہ جو ہے ملا پارٹی یہ بھی خشک ہے بالکل “ انھوں نے کہا۔ یہ لوگ دینی تعلیم تو جانتے ہیں مگر زمانہ کے حالات و ضروریات کو سامنے نہیں رکھتے۔ حالانکہ دین میں دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ فیروز پور میں مولانا عبد الستار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہاں کی جامع مسجد کے امام ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page