چوتھا سفر
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے پہلے مشرقی پنجاب کی جمعیت علمائے کے صدر رہ چکے ہیں۔ موصوف سے دیر تک گفت گو رہی۔ آپ نے یہاں کے مسلمانوں کے حالات کے بارہ میں بڑی مفید اور نصیحت آمیز باتیں بتائیں۔ فیروز پور سے ہم روانہ ہوئے تو جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور اکھڑے ہوئے درخت میوات کے اس سیلاب کا نشان تھے جس کی خبریں پچھلے مہینے اخباروں میں آتی رہی ہیں۔ حتیٰ کہ پہاڑی سے تقریباً ایک میل پہلے ہماری گاڑی رک گئی۔ کیونکہ آگے کی سڑک اتنی زیادہ خراب تھی کہ گاڑی اس سے گزر نہیں سکتی تھی۔ راستہ میں ایسے کھیت کثرت سے نظر آئے جن کی فصلیں سیلاب میں بہہ گئی تھیں۔ اب وہاں کسان دوبارہ ہل چلا کر کھیت تیار کر رہے تھے تاکہ اگلی فصل بو سکیں ۔ ہر کسان جانتا ہے کہ کوئی سیلاب صرف ایک فصل تباہ کرتا ہے۔ وہ اگلی فصل کے امکان کو برباد نہیں کرتا۔ کاش ہم زندگی کا یہ اصول اپنے قومی معاملات میں بھی اختیار کر سکیں۔ راستہ میں ایک مقام پر سڑک اس طرح گر دش کرتی ہوئی چل رہی تھی کہ ایک طرف بلند پہاڑ کھڑے تھے اور دوسری طرف گہری کھائی سڑک کے ساتھ نظر آتی تھی۔ یہ منظر قابل دید ہے۔ میرے ساتھی نے کہا اور ہم سب لوگ اس خوشنما نظارہ میں محو ہو گئے۔ مگر میں نے ڈرائیور کو دیکھا کہ وہ اپنی نظریں مکمل طور پر سامنے کی پتلی سڑک پر جمائے ہوئے ہے وہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اِدھر اُدھر نہیں دیکھتا۔ اس کے لئے دائیں بائیں کے مناظر گویا کوئی وجود ہی نہیں رکھتے۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ وقت کا تئڈ کو ایسا ہی بننا پڑتا ہے۔ عام لوگ تو اطراف کی دلچسپیوں میں شغل کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔ مگر جو شخص قیادت کر رہا ہو اس کو منزل کی طرف ہمہ تن متوجہ رہنے کے سوا کوئی صورت نہیں۔ فیروز پور کے بعد ہم ساڑھے بارہ بجے پہاڑی پہنچے۔ یہاں ۱۳۱۰ھ کی بنی ہوئی درگاہ صاحب خاں پیر ہے۔ یہ ایک بوسیدہ سی عمارت ہے۔ جس کو اِدھر اُدھر جوڑ پیوند لگا کر مدرسہ اور رہائش کے قابل بنایا گیا ہے۔ بوسیدگی کا عالم یہ ہے کہ اس کی چہار دیواری تک نہیں۔ یہاں پر مدرسہ رحیمیہ واقع ہے جو ۱۹۶۰ء سے قائم ہے۔ تقریباً ۴۵ طلبہ یہاں پر تعلیم پاتے ہیں، جن میں کچھ حافظہ کے ہیں اور کچھ اردو کے۔ "کہاں تک پڑھ چکے ہو" میں نے ناظرہ کے ایک لڑکے سے پوچھا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader