Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

"پورے گران" لڑکے کا جواب تھا۔ حافظ کے ایک بچے نے میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: "چوتھا پارہ پہنچ کر لیو" اردو کی کون سی کتاب پڑھ رہے ہو؟ میں نے تیسرے لڑکے سے پوچھا" فضائلِ نماز، تعلیم الدین حکایات صحابہ ۔۔۔ ان جوابات سے اندازہ کیجیے کہ میوات کے طالب علم کی ذہنی وعلمی حالت کیا ہے۔ ٹوٹے پھوٹے لب و لہجہ میں قرآن کو دہرانے کا نام ان کے یہاں ناظرہ وحافظہ ہے۔ اور فضائلِ نماز اور تعلیم الدین جیسی کتابیں پڑھنا ان کے نزدیک اردو پڑھنے کے ہم معنی ہے۔ میرے سامنے فرش پر مدرسہ کے بچے بیٹھے ہوئے تھے۔ خاموش پلک جھپکاتے ہوئے اور چہرہ سے مکھیاں اڑاتے ہوئے بچے میرے معمولی سوالات کا جواب اس طرح دے رہے تھے جیسے کوئی چاند کا باشندہ زمینی مخلوق سے سوال کر رہا ہو۔ ان کے معصوم چہرے بتا رہے تھے کہ انھیں ماضی، حال، مستقبل کسی چیز کا کوئی پتہ نہیں۔ وہ صرف اتنا جانتے ہیں کہ ایک ٹوٹی ہوئی عمارت میں جس کا دوسرا نام مدرسہ ہے، تعلیم کے نام سے زندگی کے کچھ دن گزار لیں اور اس کے بعد کھیتی باڑی کے آبائی کام میں یا مسجدوں کی امامت اور موذنی میں واپس چلے جائیں۔ اب ہمیں انھیں کچھ نہیں معلوم کہ آج کی دنیا کس قسم کے انسان مانگ رہی ہے۔ اور وہ کون سا فریضہ ہے جو بحیثیت مسلمان انھیں دنیا میں پورا کرنا ہے۔ یہی میوات کے تمام مدرسوں کا حال ہے۔ میواتو قوم کے بچے یہاں اس بیکسی کی حالت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس کے باہر میواتو قوم کا یہ حال ہے کہ زمینوں پر بے پناہ محنت کرکے فصل اگاتی ہے اور اس کے بعد ضروریاتِ زندگی کی خریداری شادی بیاہ کے سامان کی فراہمی یا مقدمہ بازی میں اپنی محنت کی کمائی دوسری قوموں کے پاس لے جاکر انڈیل دیتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک خاندان نے چند برس پہلے نوے ہزار روپے ایک شادی میں خرچ کردے اور اب اس کے بچے سڑکوں پر مزدوری تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اس طرح کے مدارس اس علاقہ میں کثرت سے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ مدرسے نہیں بلکہ بے کس یتیموں کا ایک قافلہ ہے جو آبادی میں جگہ نہ پا کر ٹوٹی پھوٹی دیواروں کے سایہ میں پناہ گزیں ہوگیا ہے۔ ان مدارس کے معیار کو بڑھانے کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے۔ مگر سرمایہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page