Urdu book · میوات کا سفر

چوتھا سفر

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے تو کہاں سے ۔ جب کہ یہ قوم کے پاس سرمایہ کا واحد مصرف اس کو دوسروں کے پاس پہنچا کر خود تلاش بن جاتا ہے۔ پہاڑی میں نصف درجن سے زیادہ مسجدیں ہیں ، یہ اس وقت کی یادگار ہے جب اس قصبہ میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔ اب یہاں صرف چند گھر مسلمان رہ گئے ہیں۔ تاہم مدرسہ رحیمیہ کی بدولت جو یہاں نہایت عمدہ مرکزی جگہ پر واقع ہے مسلم چہرے کافی نظر آتے ہیں ۔ یہاں کی جامع مسجد بہت بڑی اور ۱۰۱۳ ھ کی بنی ہوئی ہے۔ مکمل پتھر کی یہ عمارت جو پہاڑی کے اوپر قائم ہے ، میں اس کے اندر داخل ہوا تو فرش پر جگہ جگہ ہندی اور انگریزی میں غیر مسلموں کے نام کھدے ہوئے تھے۔ معلوم ہوا کہ ۱۹۴۷ کے ہنگامہ میں جب پہاڑی کا قصبہ مسلمانوں سے خالی ہوا تو یہاں غیر مسلم آباد ہو گئے تھے۔ اور انھوں نے اپنے نام اس کے فرش پر کھود ڈالے ۔ بعد کو جمعیۃ علماء نے مولانا محمد ابراہیم صاحب کی سرکردگی میں مساجد اور مکانات وغیرہ کی واگذاری کی جو مہم چلائی اس میں یہ مسجد بھی خالی کرائی گئی۔ اب اس مسجد اور قصبہ کی تمام مساجد کا انتظام مولانا سراج الدین صاحب کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اب غیر مسلموں میں وہ سابقہ تعصب اور ضد نہیں ہے ۔ چنانچہ قصبہ کی ایک غیر آباد مسجد جس میں غیر مسلموں نے چونا وغیرہ ڈھیر کر رکھا تھا ، اس کو خالی کرنے کے لئے کہا گیا تو وہ بلا بحث راضی ہو گئے ۔ اور مسجد خالی کر دی۔ جو لوگ ان مساجد و مدارس کو لے کر پڑے ہوئے ہیں ان کو دیکھ کر ایسا خیال ہوتا ہے جیسے تلکت کا عظیم جہاز ٹوٹنے کے بعد اس کے جو چند تختے بچے ہفتے اس سے یہ لوگ چمٹے ہوتے ہیں کہ یہ آخری متاع بھی کہیں ضائع نہ ہو جائے ۔ پہاڑی کے بعد ہم کھیڑلا میل پہنچے۔ یہاں سڑک کے عین کنارے دارالعلوم محمدیہ ہے جو چار سال سے قائم ہے ، اس کے صدر مدرس مولانا اقبال احمد صاحب ہیں۔ یہاں اساتذہ کی تعداد پانچ اور طلبہ کی تعداد ایک سو سے زائد ہے۔ اردو و مہندی حساب وغیرہ بھی نصاب میں شامل ہیں ۔ مٹی کی دیواروں پر چھپر پڑی ہوئی عمارتیں ایک طرف یہ بتاتی ہیں کہ کتنے معمولی وسائل کے ساتھ یہ لوگ خدمت دین کے میدان میں اترے ہیں اور دوسری طرف اس کی صفائی، ترتیب اور ہر چیز میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page