چوتھا سفر
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قرینہ بتاتا ہے کہ اگر چہ ان کے وسائل بہت کم ہیں مگر ان کا حوصلہ اور ان کی صلاحیت اس سے بہت زیادہ ہے۔ مدرسہ والوں نے مجھے ایک فضائی تصویر دکھائی جس میں اس سیلاب کا منظر دکھایا گیا تھا جس کے نرغہ سے ابھی مدرسہ نکلا ہے۔ حالیہ سیلاب میں مدرسہ پوری طرح سیلاب میں گھر گیا تھا۔ حدِ نظر تک پانی ہی پانی نظر آتا تھا۔ اور یہ کیفیت کم و بیش تین ہفتے تک جاری رہی۔ اس مدرسہ کے بانی اور مہتمم مولانا محمد قاسم صاحب ہیں جو مشہور تبلیغی شخصیت میاں جی موسیٰ کے پوتے ہیں۔ جہاں یہ مدرسہ قائم ہے، وہاں پہلے باغ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ ایک بار اس طرف سے گزرے تو دن میں کچھ دیر کے لئے درختوں کے سایہ میں آرام کرنے کے لئے یہاں قیام فرمایا۔ اس وقت آپ نے ایک آہ سرد بھرتے ہوئے کہا "کاش کہ یہاں کوئی دینی ادارہ ہوتا۔" مدرسہ چاروں طرف سے کھلا ہوا ہے۔ اس کی کوئی چہار دیواری نہیں ہے۔ ایک بار چوری بھی ہو چکی ہے، مدرسہ میں فیلڈ بھی نہیں ہے۔ اطراف میں زمینیں ہیں جو سستی قیمت پر مل سکتی ہیں۔ مگر جس مدرسہ کے لئے قوم کے پاس اتنا بھی تعاون نہ ہو کہ وہ اینٹ کی دیوار اور پختہ چھت بنوا سکے وہ زمینوں کی خریداری کے لئے روپیئے کہاں سے لائے گا۔ 15 اری شام کو جب میں مدرسہ سے متصل سڑک پر کھڑا ہوا تو پہہاڑوں کے اوپر سورج غروب ہو رہا تھا۔ اگلے دن صبح کو جب میں واپس ہوا تو یہ وہ وقت تھا جب کہ مشرق میں نظر آتے ہوئے درختوں کے اوپر سے دوبارہ سنہر آفتاب طلوع ہو رہا تھا۔ کتنا بڑا سبق ہے یہ " میں نے سوچا۔ جو اس میدانی مدرسہ کو ہر روز صبح شام دیا جاتا ہے۔ یہاں میوؤں کی جو نئی نسل جمع ہوئی ہے قدرت روزانہ اس کو یہ منظر دکھاتی ہے کہ ہر غروب کے بعد طلوع ہے۔ ہر ڈوبنے کے بعد تر نا ہے۔ اس لق و دق میدان میں مدرسہ قائم کئے جانے کی مصلحت شاید یہی ہے کہ یہاں میوؤں کی وہ نسل پیدا ہو جو اپنی قوم کی شام کو صبح میں تبدیل کرنے کا عزم لے کر اٹھے اور اس کی قسمت بدل سکے۔ مدرسہ کھیڑا میل سے واپس ہو کر ہم دوبارہ پہاڑی پہنچے اور یہاں سے آگے کے لئے روانہ ہوئے۔ ہماری بس یہاں سے آگے بڑھی تو چاروں طرف کھڑی ہوئی پہاڑیوں کے درمیان تارکول کی سڑکیں، اور ادھر ادھر کھمبوں کے اوپر دوڑتے ہوئے بجلی کے تار بڑا خوش نما منظر پیش کر رہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader